Friday, November 3, 2023

Syed-ul-Mursaleen صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ Ke Shumail-o-Khasail (Part-3)

سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے شمائل و خصائل

 

قسط نمبر ۳

 

*انگوٹھی*

جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بادشاہوں کے نام دعوت اسلام کے خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے کہا کہ سلاطین بغیر مہر والے خطوط کو قبول نہیں کرتے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس پر اُوپر تلے تین سطروں میں ’’مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللہ ‘‘ کندہ کیا ہوا تھا۔[52] (شمائل ترمذی ص۷ وغیرہ)

 

*خوشبو*

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خوشبو بہت زیادہ پسند تھی آپ ہمیشہ عطر کا استعمال فرمایا کرتے تھے حالانکہ خود آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جسم اطہر سے ایسی خوشبو نکلتی تھی کہ ...

جس گلی میں سے آپ گزر جاتے تھے وہ گلی معطر ہو جاتی تھی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرمایا کرتے تھے کہ مردوں کی خوشبو ایسی ہونی چاہیے کہ خوشبو پھیلے اور رنگ نظر نہ آئے اورعورتوں کے لئے وہ خوشبو بہتر ہے کہ وہ خوشبو نہ پھیلے اور رنگ نظر آئے ۔کوئی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس خوشبو بھیجتا تو آپ کبھی رد نہ فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ خوشبو کے تحفہ کو رد مت کرو کیونکہ یہ جنت سے نکلی ہوئی ہے۔[53] (شمائل ترمذی ص۱۵)

 

*سرمہ*

حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ روزانہ رات کو ’’اِثمد‘‘ کا سرمہ لگایا کرتے تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی اس میں سے تین تین سلائی دونوں آنکھوں میں لگایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اثمد کا سرمہ لگایا کرو یہ نگاہ کو روشن اور تیز کرتا ہے اور پلک کے بال اُگاتا ہے۔[54] (شمائل ترمذی ص۵)

 

*سواری*

گھوڑے کی سواری آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بہت پسند تھی۔ گھوڑوں کے علاوہ اونٹ، خچر حمار(عربی گدھا جو گھوڑے سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے) پر بھی سواری فرمائی ہے۔[55] (صحیحین وغیرہ کتب احادیث و سیر)

 

*نفاست پسندی*

حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مزاجِ اقدس نہایت ہی لطیف اور نفاست پسند تھا۔ ایک آدمی کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو ناگواری کے ساتھ ارشاد فرمایاکہ اس سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ یہ اپنے کپڑوں کو دھو لیا کرے؟ ۔اسی طرح ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے بال اُلجھے ہوئے ہیں تو فرمایا کہ کیا اس کو کوئی ایسی چیز(تیل کنگھی) نہیں ملتی کہ یہ اپنے بالوں کو سنوارلے۔[56] (ابو داؤد ج۲ ص۲۰۷ باب فی الخلقان الخ مجتبائی)

اسی طرح ایک آدمی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس بہت ہی خراب قسم کے کپڑے پہنے ہوئے آگیا تو آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کیا کچھ مال بھی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ جی ہاں میرے پاس اونٹ بکریاں گھوڑے غلام سبھی قسم کے مال ہیں ۔ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم کو مال دیا ہے تو چاہیے کہ تمہارے اوپر اس کی نعمتوں کا کچھ نشان بھی نظر آئے۔( یعنی اچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنو) [57] (ابو داؤد ج۲ ص۲۰۷ مجتبائی)

 

*مرغوب غذائیں*

حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مقدس زندگی چونکہ بالکل ہی زاہدانہ اور صبر و قناعت کا مکمل نمونہ تھی اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کبھی لذیذ اور پر تکلف کھانوں کی خواہش ہی نہیں فرماتے تھے یہاں تک کہ کبھی آپ نے چپاتی نہیں کھائی پھر بھی بعض کھانے آپ کو بہت پسند تھے جن کو بڑی رغبت کے ساتھ آپ تناول فرماتے تھے۔ مثلاً عرب میں ایک کھانا ہوتا ہے جو ’’حیس‘‘ کہلاتا ہے یہ گھی، پنیر اور کھجور ملا کر پکایا جاتا ہے اس کو آپ بڑی رغبت کے ساتھ کھاتے تھے۔

جوکی موٹی موٹی روٹیاں اکثر غذا میں استعمال فرماتے، سالنوں میں گوشت، سرکہ، شہد، روغن زیتون، کدو خصوصیت کے ساتھ مرغوب تھے۔ گوشت میں کدو پڑا ہوتا تو پیالہ میں سے کدو کے ٹکڑے تلاش کرکے کھاتے تھے۔

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بکری، دنبہ، بھیڑ، اونٹ، گورخر،خرگوش، مرغ، بٹیر، مچھلی کا گوشت کھایا ہے۔ اسی طرح کھجور اور ستو بھی بکثرت تناول فرماتے تھے۔ تربوز کو کھجور کے ساتھ ملا کر، کھجور کے ساتھ ککڑ ی ملا کر، روٹی کے ساتھ کھجور بھی کبھی کبھی تناول فرمایا کرتے تھے۔ انگور، انار وغیرہ پھل فروٹ بھی کھایا کرتے تھے۔

ٹھنڈا پانی بہت مرغوب تھا دودھ میں کبھی پانی ملا کراور کبھی خالص دودھ نوش فرماتے کبھی کشمش اور کھجور پانی میں ملا کر اس کا رس پیتے تھے جو کچھ پیتے تین سانس میں نوش فرماتے۔

ٹیبل(میز)پر کبھی کھانا تناول نہیں فرمایا،ہمیشہ کپڑے یا چمڑے کے دسترخوان پر کھانا کھاتے، مسند یا تکیہ پر ٹیک لگا کر یا لیٹ کر کبھی کچھ نہ کھاتے نہ اس کو پسند فرماتے۔ کھانا صرف انگلیوں سے تناول فرماتے چمچہ کانٹا وغیرہ سے کھانا پسند نہیں فرماتے تھے۔ ہاں ابلے ہوئے گوشت کو کبھی کبھی چھری سے کاٹ کاٹ کر بھی کھاتے تھے۔[58] (شمائل ترمذی)


*
روزمرہ کے معمولات*

احادیث ِکریمہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے دن رات کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک خداعزوجل کی عبادت کے لئے ،دوسرا عام مخلوق کے لئے، تیسرا اپنی ذات کے لئے۔

عام طور پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ معمول تھا کہ نماز فجرکے بعد آپ اپنے مصلیٰ پر بیٹھ جاتے یہاں تک کہ آفتاب خوب بلند ہو جاتا۔ عام لوگوں سے ملاقات کا یہی خاص وقت تھا لوگ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوتے اور اپنی حاجات و ضروریات کو آپ کی بارگاہ میں پیش کرتے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کی ضروریات کو پوری فرماتے اور لوگوں کو مسائل و احکام اسلام کی تعلیم و تلقین فرماتے اپنے اور لوگوں کے خوابوں کی تعبیر بیان فرماتے۔ اس کے بعد مختلف قسم کی گفتگو فرماتے کبھی کبھی لوگ زمانہ جاہلیت کی باتوں اوررسموں کا تذکرہ کرتے اور ہنستے تو حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام بھی مسکرادیتے کبھی کبھی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماپ کو اشعار بھی سناتے۔[59] (مشکوٰۃ ج۲ ص۴۰۶ باب الضحک) (ابو داؤد ج۲ ص۳۱۸ باب فی الرجل یجلس متربعاً)

اکثر اسی وقت میں مال غنیمت اور وظائف کی تقسیم بھی فرماتے۔ جب سورج خوب بلند ہو جاتا تو کبھی چار رکعت کبھی آٹھ رکعت نماز چاشت ادا فرماتے پھر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے حجروں میں تشریف لے جاتے اور گھریلو ضروریات کے بندوبست میں مصروف ہو جاتے اور گھر کے کام کاج میں ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی مدد فرماتے۔ (بخاری ج۱ ص۹۳ باب من کان فی حاجۃ اہلہ)

نماز عصر کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو شرفِ ملاقات سے سرفراز فرماتے اور سب کے حجروں میں تھوڑی تھوڑی دیر ٹھہر کر کچھ گفتگو فرماتے پھر جس کی باری ہوتی وہیں رات بسر فرماتے، تمام ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ وہیں جمع ہو جاتیں ،عشاء تک آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان سے بات چیت فرماتے رہتے پھر نماز عشاء کے لئے مسجد میں تشریف لے جاتے اور مسجد سے واپس آ کر آرام فرماتے اور عشاء کے بعد بات چیت کونا پسند فرماتے ۔[60] (مسلم ج۱ ص۴۷۲ باب القسم بین الزوجات)

 

*سونا جاگنا*

نماز عشاء پڑھ کر آرام کرنا عام طور پر یہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا معمول تھا، سونے سے پہلے قرآن مجید کی کچھ سورتیں ضرور تلاوت فرماتے اور کچھ دعاؤں کا بھی ورد فرماتے۔ پھر اکثر یہ دعا پڑھ کر دا ہنی کروٹ پر لیٹ جاتے کہ اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی یااللہ ! تیرا نام لے کر وفات پاتا ہوں اور زندہ رہتا ہوں ۔ نیند سے بیدار ہوتے تو اکثر یہ دعا پڑھتے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ [61] اس خداکیلئے حمد ہے جس نے موت کے بعد ہم کو زندہ کیا اوراسی کی طرف حشر ہو گا۔

آدھی رات یا پہر رات رہے بستر سے اٹھ جاتے مسواک فرماتے پھر وضو کرتے اور عبادت میں مشغول ہو جاتے۔ تلاوت فرماتے، مختلف دعاؤں کا وظیفہ فرماتے، خصوصیت کے ساتھ نماز تہجد ادا فرماتے، تہجد کی نماز میں کبھی لمبی لمبی کبھی چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے، ضعف پیری میں کبھی کچھ رکعتیں بیٹھ کر بھی ادا فرماتے، نمازِ تہجد کے بعد وتر پڑھتے اور پھر صبح صادق طلوع ہو جانے کے بعد سنت فجر ادا فرما کر نمازِ فجر کے لئے مسجد میں تشریف لے جاتے، کبھی کبھی کئی کئی بار رات میں سوتے اور جاگتے اور قرآن مجید کی آیات تلاوت فرماتے اورکبھی ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے گفتگو بھی فرماتے۔(صحاح ستہ وغیرہ)

 

*رفتار*

حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بہت ہی باوقار رفتار کے ساتھ چلتے تھے۔ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ بوقت رفتار حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ذرا جھک کر چلتے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ کسی بلندی سے اتر رہے ہیں ۔حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس قدر تیز چلتے تھے کہ گویا زمین آپ کے قدموں کے نیچے سے لپیٹی جا رہی ہے۔ ہم لوگ آ پ کے ساتھ چلنے میں ہانپنے لگتے اور مشقت میں پڑ جاتے تھے مگر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بلا تکلف بغیر کسی مشقت کے تیز رفتاری کے ساتھ چلتے رہتے تھے۔ [62] (شمائل ترمذی ص۹)

 

*کلام*

حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بہت تیزی کے ساتھ جلدی جلدی گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ نہایت ہی متانت اور سنجیدگی سے ٹھہر ٹھہر کر کلام فرماتے تھے بلکہ کلام اتنا صاف اور واضح ہوتا تھا کہ سننے والے اس کو سمجھ کر یاد کر لیتے تھے۔ اگر کوئی اہم بات ہوتی تو اس جملہ کو کبھی کبھی تین تین مرتبہ فرما دیتے تاکہ سامعین اس کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ’’جوامع الکلم‘‘ کا معجزہ عطا کیا گیا تھا کہ مختصر سے جملہ میں لمبی چوڑی بات کو بیان فرما دیا کرتے تھے۔ حضرت ہند بن ابو ہالہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بلا ضرورت گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ اکثر خاموش ہی رہتے تھے۔[63] (شمائل ترمذی ص۱۵)

 

*دربار نبوت*

حضور تاجدارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا دربار سلاطین اور بادشاہوں جیسا دربار نہ تھا ۔یہ دربار تخت و تاج، نقیب و دربان، پہرہ دار اورباڈی گارڈ وغیرہ کے تکلفات سے قطعاً بے نیاز تھا۔مسجد نبوی کے صحن میں صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ایک چھوٹا سا مٹی کا چبوترہ بنا دیا تھا یہی تاجدار رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وہ تخت شاہی تھا جس پر ایک چٹائی بچھا کر دونوں عالم کے تاجدار اور شہنشاہ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رونق افروز ہوتے تھے مگر اس سادگی کے باوجود جلالِ نبوت سے ہر شخص اس دربار میں پیکر تصویر نظر آتا تھا۔ بخاری شریف وغیرہ کی روایات میں آیا ہے کہ لوگ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار میں بیٹھتے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا ان کے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہیں کوئی ذرا جنبش نہیں کرتا تھا۔[64] (بخاری ج۱ ص۳۹۸)

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے اس دربار میں سب سے پہلے اہل حاجت کی طرف تو جہ فرماتے اور سب کی درخواستوں کو سن کر ان کی حاجت روائی فرماتے۔ قبائل کے نمائندوں سے ملاقاتیں فرماتے تمام حاضرین کمال ادب سے سر جھکائے رہتے اور جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کچھ ارشاد فرماتے تو مجلس پر سناٹا چھا جاتا اور سب لوگ ہمہ تن گوش ہو کر شہنشاہ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فرمان نبوت کو سنتے۔ (بخاری ج۱ ص۳۸۰ شروط فی الجہاد)

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار میں آنے والوں کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں تھی امیر و فقیر شہری اور بدوی سب قسم کے لوگ حاضر دربار ہوتے اور اپنے اپنے لہجوں میں سوال و جواب کرتے کوئی شخص اگر بولتا تو خواہ وہ کتنا ہی غریب و مسکین کیوں نہ ہو مگر دوسرا شخص اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا امیر کبیر ہو اس کی بات کاٹ کر بول نہیں سکتا تھا۔ سبحان اللہ ! ؎

وہ عادل جس کے میزان عدالت میں برابر ہیں

غبار مسکنت ہو یا وقارِ تاجِ سلطانی

جو لوگ سوال و جواب میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کمال حلم سے برداشت فرماتے اور سب کو مسائل و احکام اسلام کی تعلیم و تلقین اور مواعظ ونصائح فرماتے رہتے اور اپنے مخصوص اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے مشورہ بھی فرماتے رہتے اور صلح و جنگ اور امت کے نظام و انتظام کے بارے میں ضروری احکام بھی صادر فرمایا کرتے تھے۔ اسی دربار میں آپ مقدمات کا فیصلہ بھی فرماتے تھے۔

 

*تاجدارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خطبات*

نبی و رسول چونکہ دین کے داعی اورشریعت و ملت کے مبلغ ہوتے ہیں اور تعلیم شریعت اور تلقین دین کا بہترین ذریعہ خطبہ اور وعظ ہی ہے اس لئے ہر نبی و رسول کا خطیب اور واعظ ہونا ضروریات ولوازمِ نبوت میں سے ہے۔ یہی و جہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کو اپنی رسالت سے سرفراز فرما کر فرعون کے پاس بھیجا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام نے اس وقت یہ دعا مانگی کہ

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ(۲۵)وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ(۲۶)وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ(۲۷)یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪(۲۸)[65] (طہٰ)

اے میرے رب میرا سینہ کھول دے میرے لئے میرا کام آسان کر اور میری زَبان کی گرہ کھول دے کہ وہ لوگ میری بات سمجھیں۔

حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چونکہ تمام رسولوں کے سردارا اور سب نبیوں کے خاتم ہیں اس لئے خداوند قدوس نے آپ کو خطابت و تقریر میں ایسا بے مثال کمال عطا فرمایا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ افصح العرب (تمام عرب میں سب سے بڑھ کر فصیح) ہوئے اور آپ کو جوامع الکلم کا معجزہ بخشا گیا کہ آپ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ میں معانی و مطالب کا سمندر موجیں مارتا ہوا نظر آتا تھا اور آپ کے جوش تکلم کی تاثیرات سے سامعین کے دلوں کی دنیا میں انقلابِ عظیم پیدا ہو جاتا تھا۔

چنانچہ جمعہ وعیدین کے خطبوں کے سوا سینکڑوں مواقع پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایسے ایسے فصیح و بلیغ خطبات اور موثر مواعظ ارشاد فرمائے کہ فصحاء عرب حیران رہ گئے اوران خطبوں کے اثرات و تاثیرات سے بڑے بڑے سنگدلوں کے دل موم کی طرح پگھل گئے اور دم زدن میں ان کے قلوب کی دنیا ہی بدل گئی۔

چونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مختلف حیثیتوں کے جامع تھے اس لئے آپ کی یہ مختلف حیثیات آپ کے خطبات کے طرز بیان پر اثر انداز ہوا کرتی تھیں ۔ آپ ایک دین کے داعی بھی تھے، فاتح بھی تھے، امیر لشکر بھی تھے ،مصلح قوم بھی تھے، فرماں روا بھی تھے، اس لئے ان حیثیتوں کے لحاظ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خطبات میں قسم قسم کا زور بیان اور طرح طرح کا جوشِ کلام ہوا کرتا تھا۔ جوشِ بیان کا یہ عالم تھا کہ بسا اوقات خطبہ کے دوران میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آنکھیں سرخ اور آواز بہت ہی بلند ہو جاتی تھی اور جلالِ نبوت کے جذبات سے آپ کے چہرۂ انور پر غضب کے آثار نمودار ہو جاتے تھے بار بار انگلیوں کو اٹھا اٹھا کر اشارہ فرماتے تھے گویا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کسی لشکر کو للکار رہے ہیں ۔[66] (مسلم جلد۱ ص۲۸۴ کتاب الجمعہ)

چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَما آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پرجوش خطبہ اورتقریر کے جوش و خروش کی بہترین تصویر کھینچتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو منبر پر خطبہ دیتے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ خداوند جبار آسمانوں اورزمین کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا کہ میں جبار ہوں ، میں بادشاہ ہوں ، کہاں ہیں جبار لوگ؟ کدھر ہیں متکبرین؟ یہ فرماتے ہوئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کبھی مٹھی بند کر لیتے کبھی مٹھی کھول دیتے اور آپ کا جسم اقدس (جوش میں ) کبھی دائیں کبھی بائیں جھک جھک جاتا یہاں تک کہ میں نے یہ دیکھا کہ منبر کا نچلا حصہ بھی اس قدر ہل رہا تھا کہ میں (اپنے دل میں ) یہ کہنے لگا کہ کہیں یہ منبر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو لے کر گر تو نہیں پڑے گا۔[67] (ابن ما جہ ص۳۲۶ ذکر البعث)

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے منبرپر، زمین پر، اُونٹ کی پیٹھ پر کھڑے ہو کر جیسا موقع پیش آیا خطبہ دیا ہے۔ کبھی کبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے طویل خطبات بھی دیئے لیکن عام طور پر آپ کے خطبات بہت مختصر مگر جامع ہوتے تھے۔

میدانِ جنگ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے اور مسجدوں میں جمعہ کا خطبہ پڑھتے وقت دست ِمبارک میں ’’عصا‘‘ ہوتا تھا۔[68] (ابن ما جہ ص۷۹ باب ماجاء فی الخطبۃ یوم الجمعۃ)

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خطبوں کے اثرات کا یہ عالم ہوتا تھا کہ بعض مرتبہ سخت سے سخت اشتعال انگیز موقعوں پر آپ کے چند جملے محبت کا دریا بہا دیتے تھے۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ ایک دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایسا اثر انگیز اور ولولہ خیز خطبہ پڑھا کہ میں نے کبھی ایسا خطبہ نہیں سنا تھا درمیان خطبہ میں آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! جو میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ زبانِ مبارک سے اس جملہ کا نکلنا تھا کہ سامعین کایہ حال ہو گیا کہ لوگ کپڑوں میں منہ چھپا چھپا کر زارو قطار رونے لگے۔[69] (بخاری جلد۲ ص۶۶۵ تفسیر سورۂ مائدہ)

 

*سرورِ کائنات کی عبادات*

حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ باوجود بے شمار مشاغل کے اتنے بڑے عبادت گزار تھے کہ تمام انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کی مقدس زندگیوں میں اس کی مثال ملنی دشوار ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ تمام انبیاء سابقین کے بارے میں صحیح طور سے یہ بھی نہیں معلوم ہو سکتا کہ ان کا طریقہ عبادت کیا تھا؟ اور ان کے کون کون سے اوقات عبادتوں کے لئے مخصوص تھے؟ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی امتوں میں یہ فخرو شرف صرف حضور خاتم الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَم ہی کو حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے پیارے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عبادات کے تمام طریقوں ، ان کے اوقات و کیفیات غرض اس کے ایک ایک جزئیہ کو محفوظ رکھا ہے۔ گھروں کے اندر اور راتوں کی تاریکیوں میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جو اور جس قدر عبادتیں فرماتے تھے ان کو ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے دیکھ کر یاد رکھا اور ساری امت کو بتا دیا اور گھرکے باہر کی عبادتوں کو حضرات صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے نہایت ہی اہتمام کے ساتھ اپنی آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کرلیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قیام و قعود، رکوع و سجوداور ان کی کمیات و کیفیات، اذکار اور دعاؤں کے بعینہ الفاظ یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشادات اور خضوع و خشوع کی کیفیات کو بھی اپنی یادداشت کے خزانوں میں محفوظ کر لیا۔ پھر امت کے سامنے ان عبادتوں کا اس قدر چرچا کیا کہ نہ صرف کتابوں کے اوراق میں وہ محفوظ ہو کر رہ گئے بلکہ امت کے ایک ایک فردیہاں تک کہ پردہ نشین خواتین کو بھی ان کا علم حاصل ہو گیا اور آج مسلمانوں کا ایک ایک بچہ خواہ وہ کرۂ زمین کے کسی بھی گوشہ میں رہتا ہو اس کو اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عبادتوں کے مکمل حالات معلوم ہیں اور وہ ان عبادتوں پر اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع میں جوش ایمان اور جذبہ عمل کے ساتھ کاربند ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عبادتوں کا ایک اجمالی خاکہ حسب ذیل ہے۔

 

*نماز*

اعلانِ نبوت سے قبل بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غار حرا میں قیام و مراقبہ اور ذکر و فکر کے طور پر خداعزوجل کی عبادت میں مصروف رہتے تھے، نزول وحی کے بعد ہی آپ کو نماز کا طریقہ بھی بتا دیا گیا، پھر شب معراج میں نماز پنجگانہ فرض ہوئی۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نماز پنجگانہ کے علاوہ نماز اشراق، نماز چاشت، تحیۃ الوضوء، تحیۃ المسجد، صلوٰۃ الاوابین وغیرہ سنن و نوافل بھی ادا فرماتے تھے۔ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ تمام عمر نماز تہجد کے پابند رہے، راتوں کے نوافل کے بارے میں مختلف روایات ہیں ۔ بعض روایتوں میں یہ آیا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نماز عشاء کے بعد کچھ دیر سوتے پھر کچھ دیر تک اٹھ کر نماز پڑھتے پھر سو جاتے پھر اٹھ کر نماز پڑھتے۔ غرض صبح تک یہی حالت قائم رہتی۔ کبھی دو تہائی رات گزر جانے کے بعد بیدار ہوتے اور صبح صادق تک نمازوں میں مشغول رہتے ۔کبھی نصف رات گزر جانے کے بعد بسترسے اٹھ جاتے اور پھر ساری رات بستر پر پیٹھ نہیں لگاتے تھے اور لمبی لمبی سورتیں نمازوں میں پڑھا کرتے کبھی رکوع و سجود طویل ہوتا کبھی قیام طویل ہوتا۔ کبھی چھ رکعت،کبھی آٹھ رکعت ،کبھی اس سے کم کبھی اس سے زیادہ۔ اخیر عمر شریف میں کچھ رکعتیں کھڑے ہو کر کچھ بیٹھ کر ادا فرماتے، نمازِ وتر نماز تہجد کے ساتھ ادا فرماتے، رمضان شریف خصوصاً آخری عشرہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عبادت بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی۔ آپ ساری رات بیدار رہتے اور اپنی ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے بے تعلق ہو جاتے تھے اور گھر والوں کو نمازوں کے لئے جگایا کرتے تھے اور عموماً اعتکاف فرماتے تھے۔ نمازوں کے ساتھ ساتھ کبھی کھڑے ہو کر، کبھی بیٹھ کر، کبھی سربسجود ہو کر نہایت آہ و زاری اور گریہ و بکا کے ساتھ گڑگڑا گڑگڑا کر راتوں میں دعائیں بھی مانگا کرتے، رمضان شریف میں حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلام کے ساتھ قرآن عظیم کا دور بھی فرماتے اور تلاوت قرآن مجید کے ساتھ ساتھ طرح طرح کی مختلف دعاؤں کا ورد بھی فرماتے تھے اور کبھی کبھی ساری رات نمازوں اور دعاؤں میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ پائے اقدس میں ورم آ جایا کرتا تھا۔ (صحاح ستہ وغیرہ کتب حدیث)

 

*روزہ*

رمضان شریف کے روزوں کے علاوہ شعبان میں بھی قریب قریب مہینہ بھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ روزہ دار ہی رہتے تھے۔ سال کے باقی مہینوں میں بھی یہی کیفیت رہتی تھی کہ اگر روزہ رکھنا شروع فرما دیتے تو معلوم ہوتا تھا کہ اب کبھی روزہ نہیں چھوڑیں گے پھر ترک فرما دیتے تو معلوم ہوتا تھا کہ اب کبھی روزہ نہیں رکھیں گے۔ خاص کر ہر مہینے میں تین دن ایام بیض کے روزے، دو شنبہ و جمعرات کے روزے، عاشوراء کے روزے، عشرہ ذوالحجہ کے روزے، شوال کے چھ روزے، معمولاً رکھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ’’صوم وصال‘‘ بھی رکھتے تھے، یعنی کئی کئی دن رات کا ایک روزہ، مگر اپنی امت کو ایسا روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے، بعض صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ !(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) آپ تو صوم وصال رکھتے ہیں ۔ارشاد فرمایا کہ تم میں مجھ جیسا کون ہے؟ میں اپنے رب کے دربار میں رات بسر کرتا ہوں اور وہ مجھ کو (روحانی غذا) کھلاتا اور پلاتا ہے۔[70] (بخاری و مسلم صوم وصال)

 

*زکوٰۃ*

چونکہ حضرات انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر خداوند قدوس نے زکوٰۃ فرض ہی نہیں فرمائی ہے اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرزکوٰۃفرض ہی نہیں تھی۔[71] (زرقانی ج۸ ص۹۰) لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقات و خیرات کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے پاس سونا چاندی یا تجارت کا کوئی سامان یا مویشیوں کا کوئی ریوڑ رکھتے ہی نہیں تھے بلکہ جو کچھ بھی آپ کے پاس آتا سب خداعزوجل کی راہ میں مستحقین پر تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ گوارا ہی نہیں تھا کہ رات بھر کوئی مال و دولت کا شانہ نبوت میں رہ جائے۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق پڑا کہ خراج کی رقم اس قدر زیادہ آگئی کہ وہ شام تک تقسیم کرنے کے باوجود ختم نہ ہو سکی تو آپ رات بھر مسجد ہی میں رہ گئے جب حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آکر یہ خبر دی کہ یا رسول اللہ !(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) ساری رقم تقسیم ہو چکی تو آپ نے اپنے مکان میں قدم رکھا۔ [72] (ابو داؤد باب قبول ہدایاالمشرکین)

 

*حج*

اعلانِ نبوت کے بعد مکہ مکرمہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دو یا تین حج کئے۔ [73] (ترمذی باب کم حج النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ و ابن ماجہ)

لیکن ہجرت کے بعدمدینہ منورہ سے ۱۰ ھ؁ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک حج فرمایاجوحجۃ الوداع کے نام سے مشہورہے جس کامفصل تذکرہ گزرچکا۔حج کے علاوہ ہجرت کے بعدآپ نے چارعمرے بھی ادافرمائے۔[74] (ترمذی وبخاری ومسلم کتاب الحج)

 

*ذکر الٰہی*

حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا بیان ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہر وقت ہر گھڑی ہر لحظہ ذکر الٰہی میں مصروف رہتے تھے۔[75] (ابو داؤد کتاب الطہارۃ وغیرہ)

اٹھتے بیٹھتے،چلتے پھرتے،کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، وضو کرتے، نئے کپڑے پہنتے، سوار ہوتے، سواری سے اترتے، سفر میں جاتے، سفر سے واپس ہوتے، بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور نکلتے، مسجد میں آتے جاتے، جنگ کے وقت، آندھی، بارش، بجلی کڑکتے وقت، ہر وقت ہر حال میں دعائیں وردِ زبان رہتی تھیں ۔ خوشی اورغمی کے اوقات میں ،صبح صادق طلوع ہونے کے وقت، غروبِ آفتاب کے وقت، مرغ کی آواز سن کر،گدھے کی آواز سن کر،غرض کون سا ایسا موقع تھا کہ آپ کوئی دعا نہ پڑھتے دن ہی میں نہیں بلکہ رات کے سناٹوں میں بھی برابر دعا خوانی اور ذکر الٰہی میں مشغول رہتے یہاں تک کہ بوقتِ وفات بھی جو فقرہ بار بار وردِ زَبان رہا وہ اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی کی دعا تھی۔(صحاح ستہ و حصن حصین وغیرہ کتب احادیث)(سیرت مصطفی ٰ،ص۵۶۱ تا ۵۹۸)


اختتام۔۔۔


[52] ۔۔۔ الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی خاتم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۸۵،۸۶،ص۶۹

[53] ۔۔۔ الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی تعطر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۲۰۷، ۲۰۸،۲۱۰،۲۱۱،ص۱۳۰،۱۳۲ملخصاً

[54] ۔۔۔ الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی کحل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۴۸،۴۹، ۵۰،ص۵۰،۵۱ملخصاً

[55] ۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب الجہادوالسیر،باب الرد ف علی الحمار،الحدیث:۲۹۸۷،ج۲،ص۳۰۶وکتاب الاذان،باب ایجاب التکبیر۔۔۔الخ،الحدیث:۷۳۲،ج۱،ص۲۶۰

[56] ۔۔۔ سنن ابی داود،کتاب اللباس،باب فی غسل الثوب۔۔۔الخ،الحدیث:۴۰۶۲،ج۴،ص۷۲

[57] ۔۔۔ سنن ابی داود،کتاب اللباس،باب فی غسل الثوب۔۔۔الخ،الحدیث:۴۰۶۳،ج۴،ص۷۲

[58] ۔۔۔ الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی صفۃ اکل۔۔۔الخ وباب ماجاء فی صفۃ خبز۔۔۔الخ وباب ماجاء فی ادام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،ص۹۵۔۱۱۴ملتقطاً

[59] ۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب الاداب،باب الضحک،الحدیث:۴۷۴۷،ج۲،ص۱۷۹ملخصاً وسنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی الرجل۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۵۰، ج۴،ص۳۴۵ملخصاً

[60] ۔۔۔ صحیح مسلم،کتاب الرضاع،باب القسم بین الزوجات۔۔۔الخ،الحدیث:۱۴۶۲،ص۷۷۰ملخصاً

[61] ۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب الدعوات،باب وضع الیدالیمنی۔۔۔الخ،الحدیث:۶۳۱۴،ج۴،ص۱۹۲

[62] ۔۔۔ الشمائل المحمدیۃ ، باب ماجاء فی مشیۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ وسلم،الحدیث:۱۱۶، ۱۱۷،۱۱۸، ص۸۶،۸۷ملخصاً

[63] ۔۔۔ الشمائل المحمدیۃ،باب کیف کان کلام رسول اللّٰہ،الحدیث:۲۱۳،۲۱۴،۲۱۵،ص۱۳۴،۱۳۵

[64] ۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب الجھادوالسیر،باب فضل النفقۃ فی سبیل اللّٰہ،الحدیث:۲۸۴۲، ج۲،ص۲۶۶ملتقطاً

[65] ۔۔۔ الف پ۱۶،طہ:۲۵۔۲۸

[66] ۔۔۔ صحیح مسلم،کتاب الجمعۃ،باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ،الحدیث:۸۶۷،ص۴۳۰

[67] ۔۔۔ سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد،باب ذکر البعث ، الحدیث:۴۲۷۵،ج۴،ص۵۰۵

[68] ۔۔۔ سنن ابن ماجہ،کتاب اقامۃالصلاۃ،باب ماجاء فی الخطبۃ۔۔۔الخ،الحدیث:۱۱۰۷،ج۲،ص۱۹

[69] ۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب التفسیر،باب لاتسئلواعن اشیاء ۔۔۔الخ،الحدیث:۴۶۲۱،ج۳،ص۲۱۷

[70] ۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب الوصال۔۔۔الخ،الحدیث:۱۹۶۱،ج۱،ص۶۴۵ ووسائل الوصول الی شمائل الرسول،الباب السادس فی صفۃ عبادتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، الفصل الثانی فی صفۃ صومہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،ص۲۶۵۔۲۶۸ملتقطاً

[71] ۔۔۔ المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،النوع الثالث فی ذکر سیرتہ فی الزکاۃ،ج۱۱،ص۲۰۲

[72] ۔۔۔ سنن ابی داود،کتاب الخراج۔۔۔الخ،باب فی الامام یقبل۔۔۔الخ،الحدیث:۳۰۵۵،ج۳، ص۲۳۱ملخصاً

[73] ۔۔۔ سنن الترمذی،کتاب الحج،باب کم حج النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۸۱۵،ج۲،ص۲۲۰

[74] ۔۔۔ سنن التر مذی،کتاب الحج،باب کم اعتمرالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۸۱۷،ج۲،ص۲۲۱

[75] ۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب الاذان،تحت الباب ھل یتتبع المؤذن۔۔۔الخ،ج۱،ص۲۲۹


••┈•••○○❁⭕❁○○•••┈••

✍️ کَتـــَبَہُ:

مـرکزی میـڈیا سیـل

طَـرزِ رَضَـا نِیـٹوَرک

💬 https://chat.whatsapp.com/I17kpm09EQR0v1I7L7uTRG

📝 www.tarzeraza.blogspot.com

🌎 www.facebook.com/tarzeraza

°.✩┈∘┈✧❁✧┈∘┈✩.°

+923147484963💬 

No comments:

Post a Comment