*ایمان و کفر کا بیان*
ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں ، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں ، جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا[1]، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَخاتم النبیین ہیں ، حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔[2] عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقۂ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں ، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں [3]، نہ وہ کہ کوردہ[4] اور جنگل اور پہاڑوں کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ۔۔۔
ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں ۔عقیدہ (۱):اصلِ ایمان
صرف تصدیق کا نام ہے[5]، اعمالِ بدن تو اصلاً جزو ایمان نہیں [6]، رہا اقرار، اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تصدیق کے بعد اس کو
اظہار کا موقع نہ ملا تو عند اللہ [7] مومن ہے اور
اگر موقع ملا اور اُس سے مطالبہ کیا گیا اور اقرار نہ کیا تو کافر ہے اور اگر
مطالبہ نہ کیا گیا تو احکام دنیا میں کافر سمجھا جائے گا، نہ اُس کے جنازے کی
نماز پڑھیں گے، نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں گے، مگر
عند اللہ مومن ہے اگر کوئی امر خلافِ اسلام ظاہر نہ کیا ہو۔[8]
عقیدہ (۲):مسلمان
ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیز کا انکار نہ کرے جو ضروریاتِ
دین سے ہے، اگرچہ باقی باتوں کا اقرار کرتا ہو، اگرچہ وہ یہ کہے کہ صرف زبان
سے انکار ہے دل میں انکار نہیں [9]، ۔۔۔۔
کہ بلا اِکراہِ شرعی[10] مسلمان کلمۂ کفر صادر نہیں کر سکتا، وہی شخص ایسی بات
منہ پر لائے گا جس کے دل میں اتنی ہی وقعت ہے کہ جب چاہا اِنکار کر دیا اور
ایمان تو ایسی تصدیق ہے جس کے خلاف کی اصلاً گنجائش نہیں ۔[11]
مسئلہ(۱): اگر
معاذ اللہ کلمۂ کفر جاری کرنے پر کوئی شخص مجبور کیا گیا، یعنی اُسے
مار ڈالنے یا اُس کا عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والے کو اس
بات کے کرنے پر قادر سمجھے تو ایسی حالت میں اس کو رخصت دی گئی ہے، مگر شرط
یہ ہے کہ دل میں وہی اطمینانِ ایمانی ہو جو پیشتر تھا ، مگر افضل جب بھی یہی
ہے کہ قتل ہو جائے اور کلمۂ کفر نہ کہے۔[12]
مسئلہ (۲): عملِ
جوارح [13] داخلِ ایمان نہیں [14]، البتہ بعض اعمال جو قطعاً مُنافیٔ ایمان ہوں اُن کے مرتکب
کو کافر کہا جائے گا، جیسے بُت یا چاند سورج کو سجدہ کرنا اور قتلِ نبی یا نبی کی
توہین یا مصحَف شریف یا کعبۂ معظمہ کی توہین اور کسی سنّت کو ہلکا بتانا، یہ
باتیں یقینا کُفر ہیں ۔[15] یوہیں بعض اعمال کفر کی علامت
ہیں ، جیسے زُنّار[16] باندھنا، سر پر چُوٹیا[17] رکھنا، قَشْقَہْ[18] لگانا، ایسے افعال کے مرتکب کو فقہائے
کرام کافر کہتے ہیں ۔[19] تو جب ان اعمال سے کفر لازم آتا ہے تو
ان کے مرتکب کو از سرِ نو اسلام لانے اور اس کے بعد اپنی عورت سے تجدیدِ نکاح کا
حکم دیا جائے گا۔[20]
عقیدہ (۳): جس
چیز کی حِلّت، نصِّ قطعی سے ثابت ہو[21] اُس کو حرام کہنا اور جس کی حُرمت
یقینی ہو اسے حلال بتانا
کفر ہے، جبکہ یہ حکم
ضروریاتِ دین سے ہو، یا منکر اس حکمِ قطعی سے آگاہ ہو۔ [22]
مسئلہ
(۱): اُصولِ عقائد میں تقلید جائز نہیں بلکہ جو بات ہو یقینِ قطعی
کے ساتھ ہو، خواہ وہ یقین کسی طرح بھی حاصل ہو، اس کے حصول میں بالخصوص علمِ
استدلالی[23] کی حاجت نہیں ، ہاں ! بعض
فروعِ عقائد میں تقلید ہوسکتی ہے[24] ،اِسی بنا پر خوداہلِ سنّت میں دو
گروہ ہیں : ’’ماتُرِیدیہ‘‘کہ امام عَلم الہدیٰ حضرت ابو منصور
ماتریدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ [25] کے متّبع ہوئے اور
’’اَشاعرہ‘‘ کہ حضرت امام شیخ ابو الحسن اشعری رَحِمَہُ اﷲُ تَعَالٰی[26] کے تابع ہیں ، یہ دونوں جماعتیں اہلِ سنّت ہی
کی ہیں اور دونوں حق پر ہیں ، آپس میں صرف بعض فروع کا
اختلاف ہے۔[27]اِن کا اختلاف حنفی، شافعی کا سا ہے، کہ دونوں اہلِ حق
ہیں ، کوئی کسی کی تضلیل و تفسیق نہیں کرسکتا۔[28]
مسئلہ
(۲): ایمان قابلِ زیادتی و نقصان نہیں ، اس لیے کہ کمی بیشی اُس
میں ہو تی ہے جو مقدار یعنی لمبائی، چوڑائی، موٹائی یا گنتی رکھتا ہو اور
ایمان تصدیق ہے اور تصدیق، کَیف یعنی ایک حالتِ اِذعانیہ۔[29] بعض آیات میں ایمان کا زیادہ ہونا جو فرمایا ہے
اُس سے مراد مُؤمَن بہ ومُصدََّق بہ ہے، یعنی جس پر ایمان لایا
گیا اور جس کی تصدیق کی گئی کہ زمانۂ نزولِ قرآن میں اس کی کوئی حد معیّن
نہ تھی، بلکہ احکام نازل ہوتے رہتے اور جو حکم نازل ہوتا اس پر ایمان لازم ہوتا،
نہ کہ خود نفسِ ایمان بڑھ گَھٹ جاتا ہو، البتہ ایمان قابلِ شدّت و ضُعف ہے کہ یہ
کَیف کے عوارض سے ہیں ۔ [30] حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہ کا تنہا ایمان اس اُمت کے تمام افراد کے مجموع
ایمانوں پر غالب ہے۔ [31]
عقیدہ
(۴): ایمان و کفر میں واسطہ نہیں [32]، یعنی آدمی یا مسلمان
ہوگا یا کافر، تیسری صورت کوئی نہیں کہ نہ مسلمان[33]؎ ہو نہ کافر۔
مسئلہ: نفاق کہ
زبان سے دعویٔ اسلام کرنا اور دل میں اسلام سے انکار، یہ بھی خالص کفر ہے[34]، بلکہ ایسے لوگوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔[35] حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے
زمانۂ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفرِ
باطنی پر قرآن ناطق ہوا[36]، نیز نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے اپنے وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرما دیا کہ یہ
منافق ہے۔[37] اب اِس زمانہ میں کسی خاص شخص کی
نسبت قطع[38] کے ساتھ منافق نہیں کہا جاسکتا،
کہ ہمارے سامنے جو دعویٔ اسلام کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے، جب تک اس
سے وہ قول یا فعل جو مُنافیِ ایمان ہے نہ صادر ہو، البتہ نفاق کی ایک شاخ اِس
زمانہ میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بد مذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے
ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعویٔ اسلام کے ساتھ ضروریاتِ دین کا انکار بھی ہے۔
عقیدہ (۵): شرک
کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا، یعنی اُلوہیت
میں دوسرے کو شریک کرنا[39] اور یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے، اس
کے سوا کوئی بات اگرچہ کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں ، ولہٰذا شرعِ
مطہّر نے اہلِ کتاب کفّار کے احکام مشرکین کے احکام سے جدا فرمائے، کتابی کا
ذبیحہ حلال، مشرک کا مُردار، کتابیہ سے نکاح ہو سکتا ہے، مشرکہ سے
نہیں ہوسکتا،[40] امام شافعی کے نزدیک کتابی سے جزیہ[41] لیا جائے گا، مشرک سے نہ لیا جائے گا[42] ۔
اور کبھی شرک بول کر
مطلق کفر مراد لیا جاتا ہے، یہ جو قرآنِ عظیم میں فرمایا: کہ ـ’’شرک نہ
بخشا جائے گا‘‘[43] وہ اسی معنی پر ہے، یعنی اَصلاً کسی
کفر کی مغفرت نہ ہوگی، باقی سب گناہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مشیت پر
ہیں ، جسے چاہے بخش دے۔ [44]
عقیدہ
(۶): مرتکبِ کبیرہ مسلمان ہے[45] اور جنت میں جائے گا،
خواہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے محض فضل سے اس کی مغفرت فرما دے، یا
حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شفاعت کے بعد، یا
اپنے کیے کی کچھ سزا پا کر، اُس کے بعد کبھی جنت سے نہ نکلے گا۔[46]
مسئلہ: جو کسی
کافر کے لیے اُس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے، یا کسی مردہ مُرتد کو مرحوم یا
مغفور، یا کسی مُردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی[47] کہے، وہ خود کافر
ہے۔[48]
عقیدہ
(۷): مسلمان کو مسلمان، کافر کو کافر جاننا ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ کسی
خاص شخص کی نسبت یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا خاتمہ ایمان
یا معاذاﷲ کفر پر ہوا، تاوقتیکہ اس کے خاتمہ کا حال دلیلِ شرعی سے ثابت
نہ ہو، مگر اس سے یہ نہ ہوگا کہ جس شخص نے قطعاً کفر کیا ہو اس کے کُفر
میں شک کیا جائے، کہ قطعی کافر کے کفر میں شک بھی آدمی کو کافر بنا
دیتا ہے۔[49]
خاتمہ پر بِنا روزِ
قیامت اور ظاہر پر مدار حکمِ شرع ہے، اس کو یوں سمجھو کہ کوئی کافر مثلاً
یہودی یا نصرانی یا بُت پرست مر گیا تو یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ
کفر پر مرا، مگر ہم کو اﷲ و رسول (عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کا حکم یہی ہے کہ اُسے کافر
ہی جانیں ، اس کی زندگی میں اور موت کے بعد تمام وہی معاملات اس کے ساتھ
کریں جو کافروں کے لیے ہیں ، مثلاً میل جول، شادی بیاہ، نمازِ
جنازہ، کفن دفن، جب اس نے کفر کیا تو فرض ہے کہ ہم اسے کافر ہی جانیں اور
خاتمہ کا حال علمِ الٰہی پر چھوڑیں ، جس طرح جو ظاہراً مسلمان ہو اور اُس سے
کوئی قول و فعل خلافِ ایمان نہ ہو، فرض ہے کہ ہم اسے مسلمان ہی مانیں ، اگرچہ
ہمیں اس کے خاتمہ کا بھی حال معلوم نہیں ۔
اِس زمانہ
میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ’’ میاں ۔۔۔! جتنی دیر اسے کافر کہو گے،
اُتنی دیر اﷲ اﷲ کروکہ یہ ثواب کی بات ہے۔‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ
ہم کب کہتے ہیں کہ کافرکافر کا وظیفہ کرلو۔۔۔؟! مقصود یہ ہے کہ اُسے کافر
جانو اور پوچھا جائے تو قطعاً کافر کہو،نہ یہ کہ اپنی صُلحِ کل سے[50] اس کے کُفر پر پردہ ڈالو۔
تنبیہ
ضروری: حدیث میں ہے:
((سَتَفْتَرِقُ
أُمَّتِيْ ثَلٰثاً وَّسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً کُلُّھُمْ فِيْ النَّارِ
إلَّاوَاحِدَۃً))
’’یہ امت تہتّر فرقے
ہو جائے گی، ایک فرقہ جنتی ہوگا باقی سب جہنمی۔‘‘
صحابہ نے عرض کی:
’’مَنْ ھُمْ یَا رَسُوْلَ اللہِ؟‘‘
’’وہ ناجی[51] فرقہ کون ہے یا رسول اﷲ ؟‘‘
فرمایا:
((مَا أَنَا
عَلَیْہِ وَأَصْحَابِيْ۔))[52]
’’وہ جس پر
میں اور میرے صحابہ ہیں ‘‘، یعنی سنّت کے پیرو۔
دوسری روایت
میں ہے، فرمایا:
((ھُمُ
الْجَمَاعَۃُ۔))[53]
’’وہ جماعت ہے۔‘‘
یعنی
مسلمانوں کا بڑا گروہ ہے جسے سوادِ اعظم فرمایا اور فرمایا: جو اس سے الگ
ہوا، جہنم میں الگ ہوا۔ [54] اسی وجہ سے اس ’’ناجی فرقہ‘‘ کا نام
’’اہلِ سنت و جماعت‘‘ ہوا۔[55] اُن گمراہ فرقوں میں بہت سے
پیدا ہو کر ختم ہو گئے، بعض ہندوستان میں نہیں ،
ان فرقوں کے ذکر
کی ہمیں کیا حاجت کہ نہ وہ ہیں ، نہ اُن کا فتنہ، پھر ان کے تذکرہ سے
کیا مطلب؟!۔
جو اِس ہندوستان
میں ہیں مختصراً ان کے عقائدکا ذکر کیا جاتا ہے، کہ ہمارے عوام بھائی ان
کے فریب میں نہ آئیں کہ حدیث میں اِرشاد فرمایا:
((إِ یَّاکُمْ وَإِ
یَّاھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ)) [56]
’’اپنے کو اُن سے
دُور رکھو اور اُنھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کر
دیں ، کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔‘‘
*جاری ہے۔۔۔*
اس مضون کے حوالاجات پڑھنے کے لیئے اس لنک
https://tarzeraza.blogspot.com/2023/11/imaan-aur-kufr-ka-bayan-references.html
پر کلک کریں۔ مضمون کو طوالت سے بچانے ک لیئے لنکس الگ سے پوسٹ کردیئے گئے
ہیں۔
*کل کی پوسٹ میں پڑھیں۔۔۔ قادیانیوں کا بیان*
••┈•••○○❁⭕❁○○•••┈••
✍️ کَتـــَبَہُ:
مـرکزی میـڈیا سیـل
طَـرزِ رَضَـا نِیـٹوَرک
💬 https://chat.whatsapp.com/I17kpm09EQR0v1I7L7uTRG
📝 www.tarzeraza.blogspot.com
🌎 www.facebook.com/tarzeraza
°.✩┈∘┈✧❁✧┈∘┈✩.°
+923147484963💬
No comments:
Post a Comment