Wednesday, November 1, 2023

Syed-ul-Mursaleen صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ Ke Shumail-o-Khasail (Part-1)

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے شمائل و خصائل

 

قسط نمبر ۱

 

حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح کمال سیرت میں تمام اولین و آخرین سے ممتاز اور افضل و اعلیٰ بنایا اسی طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جمالِ صورت میں بھی بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا۔ ہم اور آپ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شانِ بے مثال کو بھلا کیا سمجھ سکتے ہیں ؟ حضرات صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم جو دن رات سفر و حضر میں جمال نبوت کی تجلیاں دیکھتے رہے انہوں نے محبوب خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جمالِ بے مثال کے فضل و کمال کی جو مصوری کی ہے اس کو سن کر یہی کہنا پڑتا ہے جو کسی مداحِ رسول نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎

لَمْ یَخْلُقِ الرَّحْمٰنُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ

اَبَدًا وَّ عِلْمِیْ اَنَّہٗ لَا یَخْلُقُ

یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مثل پیدا فرمایا ہی نہیں اور میں یہی جانتا ہوں کہ وہ کبھی نہ پیدا کرے گا۔[1] (حیاۃ الحیوان د میری ج۱ص۴۲)

صحابی رسول اور تاجدار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے درباری شاعر حضرت حسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے قصیدۂ ہمزیہ میں جمال نبوت کی شان بے مثال کو اس شان کے ساتھ بیان فرمایا کہ ؎

وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنِیْ!

وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ

یعنی یا رسول اللہ !(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) آپ سے زیادہ ... 

حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں ۔

خُلِقْتَ مُبَرَّءًمِّنْ کُلِ عَیْبٍ!

کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ[2]

(یا رسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔

حضرت علامہ بوصیری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے قصیدۂ بردہ میں فرمایا کہ ؎

مُنَزَّہٌ عَنْ شَرِیْکٍ فِیْ مَحَاسِنِہٖ

فَجَوْھَرُ الْحُسْنِ فِیْہِ غَیْرُ مُنْقَسِمٖ[3]

یعنی حضرت محبوب خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں جو حسن کا جوہر ہے وہ قابل تقسیم ہی نہیں ۔

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب قبلہ بریلوی قدس سرہ العزیز نے بھی اس مضمون کی عکاسی فرماتے ہوئے کتنے نفیس انداز میں فرمایا ہے کہ ؎

ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا تری خَلق کو حق نے جمیل کیا

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالق حسن و ادا کی قسم

بہر حال اس پر تمام امت کا ایمان ہے کہ تناسب ِاعضاء اور حسن و جمال میں حضور نبی آخر الزمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بے مثل و بے مثال ہیں ۔ چنانچہ حضرات محدثین و مصنفین سیرت نے روایات صحیحہ کے ساتھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہر ہر عضو شریفہ کے تناسب اور حسن و جمال کو بیان کیا ہے۔ہم بھی اپنی اس مختصر کتاب میں ’’حلیۂ مبارکہ‘‘ کے ذکر جمیل سے حسن و جمال پیدا کرنے کے لئے اس عنوان پر حضرت مولانا محمد کامل صاحب چراغ ربانی نعمانی ولید پوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے منظوم حلیہ مبارکہ کے چند اشعار نقل کرتے ہیں تاکہ اس عالم کامل کی برکتوں سے بھی یہ کتاب سرفراز ہو جائے۔ حضرت مولانا موصوف نے اپنی کتاب ’’پنجہ نور‘‘ میں تحریر فرمایا کہ

 

*حلیۂ مقدسہ*

روحِ حق کا میں سراپا کیا لکھوں حلیہ نورِ خدا میں کیا لکھوں

پر جمالِ رحمۃٌ للعالمیں جلوہ گر ہو گا مکانِ قبر میں

اس لئے ہے آگیا مجھ کو خیال مختصر لکھ دوں جمالِ بے مثال

تا کہ یاروں کو مرے پہچان ہو اور اس کی یاد بھی آسان ہو

تھا میانہ قد و اوسط پاک تن پر سپید و سرخ تھا رنگ بدن

چاند کے ٹکڑے تھے اعضاء آپ کے تھے حسین و گول سانچے میں ڈھلے

تھیں جبیں روشن کشادہ آپ کی چاند میں ہے داغ وہ بے داغ تھی

دونوں ابرو تھیں مثالِ دو ہلال اور دونوں کو ہوا تھا اِتصال

اِتصال دو مہ ’’عیدین‘‘ تھا یاکہ ادنیٰ قرب تھا ’’قوسین‘‘ کا

تھیں بڑی آنکھیں حسین و سرمگیں دیکھ کر قربان تھیں سب حور عیں

کان دونوں خوب صورت ارجمند ساتھ خوبی کے دہن بینی بلند

صاف آئینہ تھا چہرہ آپ کا صورت اپنی اس میں ہر اک دیکھتا

تابہ سینہ ریش محبوبِ الٰہ خوب تھی گنجان مو ، رنگ سیاہ

تھا سپید اکثر لباسِ پاک تن ہو ازار و جبہ یا پیر ہن

سبز رہتا تھا عمامہ آپ کا پر کبھی سود و سپید و صاف تھا

میں کہوں پہچان عمدہ آپ کی دونوں عالم میں نہیں ایسا کوئی

 

*جسم اطہر*

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جسم اقدس کا رنگ گورا سپید تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ کا مقدس بدن چاندی سے ڈھال کر بنایا گیا ہے۔[4] (شمائل ترمذی ص۲)

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا جسم مبارک نہایت نرم و نازک تھا۔ میں نے دیباوحریر(ریشمیں کپڑوں ) کو بھی آپ کے بدن سے زیادہ نرم و نازک نہیں دیکھا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جسم مبارک کی خوشبو سے زیادہ اچھی کبھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی۔[5] (بخاری ج۱ ص۵۰۳ باب صفۃ النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )

حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ جب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خوش ہوتے تھے تو آپ کا چہرۂ انور اس طرح چمک اٹھتا تھا کہ گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے اور ہم لوگ اسی کیفیت سے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شادمانی و مسرت کو پہچان لیتے تھے۔ [6] (بخاری ج۱ ص۵۰۲ باب صفۃ النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )

آپ کے رُخِ انور پر پسینہ کے قطرات موتیوں کی طرح ڈھلکتے تھے اور اس میں مشک و عنبر سے بڑھ کر خوشبو رہتی تھی۔ چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی والدہ حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہاایک چمڑے کا بستر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے

بچھا دیتی تھیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس پر دوپہر کو قیلولہ فرمایا کرتے تھے تو آپ کے جسم اطہر کے پسینے کو وہ ایک شیشی میں جمع فرما لیتی تھیں پھر اس کو اپنی خوشبو میں ملا لیا کرتی تھیں ۔ چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وصیت کی تھی کہ میری وفات کے بعد میرے بدن اور کفن میں وہی خوشبو لگائی جائے جس میں حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جسم اطہر کا پسینہ ملا ہوا ہے۔[7] (بخاری ج۲ ص۹۲۹ باب من زار قوماً فقال عندہم و بخاری ج۱ ص۳۶۵ حدیث الافک)

 

*جسم انور کا سایہ نہ تھا*

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قد مبارک کا سایہ نہ تھا۔ حکیم ترمذی (متوفی ۲۵۵؁ھ) نے اپنی کتاب ’’نوادر الاصول‘‘ میں حضرت ذکوان تابعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ سورج کی دھوپ اور چاند کی چاندنی میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا سایہ نہیں پڑتا تھا ۔امام ابن سبع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا قول ہے کہ یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خصائص میں سے ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا اور آپ نور تھے اس لئے جب آپ دھوپ یا چاندنی میں چلتے تو آپ کا سایہ نظر نہ آتا تھا اور بعض کا قول ہے کہ اس کی شاہد وہ حدیث ہے جس میں آپ کی اس دعا کا ذکر ہے کہ آپ نے یہ دعا مانگی کہ خداوندا! تو میرے تمام اعضاء کو نور بنا دے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی اس دعا کو اس قول پر ختم فرمایا کہ’’وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا‘‘ یعنی یااللہ ! تو مجھ کو سراپا نور بنا دے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ سراپا نور تھے تو پھر آپ کا سایہ کہاں سے پڑتا؟

اسی طرح عبداللہ بن مبارک اور ابن الجوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَ نے بھی حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا سایہ نہیں تھا۔[8] (زرقانی ج۵ ص۲۴۹)

 

*مکھی، مچھر، جوؤں سے محفوظ*

حضرت امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس روایت کو نقل فرمایا ہے اور علامہ حجازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِوغیرہ سے بھی یہی منقول ہے کہ بدن تو بدن، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کپڑوں پر بھی کبھی مکھی نہیں بیٹھی، نہ کپڑوں میں کبھی جوئیں پڑیں ، نہ کبھی کھٹمل یا مچھر نے آپ کو کاٹا، اس مضمون کو ابو الربیع سلیمان بن سبع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی کتاب ’’شفاء الصدور فی اعلام نبوۃ الرسول‘‘ میں بیان فرماتے ہوئے تحریر فرمایا کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نور تھے۔ پھر مکھیوں کی آمد، جوؤں کا پیدا ہونا چونکہ گندگی بدبو وغیرہ کی وجہ سے ہوا کرتا ہے اور آپ چونکہ ہر قسم کی گندگیوں سے پاک اور آپ کا جسم اطہر خوشبو دار تھا اس لئے آپ ان چیزوں سے محفوظ رہے۔امام سبتیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بھی اس مضمون کو ’’اعظم الموارد‘‘ میں مفصل لکھا ہے۔[9] (زرقانی ج۵ ص۲۴۹)

 

*مہر نبوت*

حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دونوں شانوں کے درمیان کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت تھی۔ یہ بظاہر سرخی مائل اُبھرا ہوا گوشت تھا۔ چنانچہ حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت کو دیکھا جو کبوتر کے انڈے کی مقدار میں سرخ اُبھرا ہوا ایک غدود تھا۔[10] (شمائل ترمذی ص۳ وترمذی ج۲ص ۲۰۵)

لیکن ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مہر نبوت کبوتر کے انڈے کے برابر تھی اور اس پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی کہ

اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ بِوَجْہٍ حَیْثُ کُنْتَ فَاِنَّکَ مَنْصُوْرٌ

یعنی ایک اللہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں (اے رسول!)آپ جہاں بھی رہیں گے آپ کی مدد کی جائے گی اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ

’’ کَانَ نُوْرًا یَّتَلَأُ لَأُ ‘‘ یعنی مہر نبوت ایک چمکتا ہوا نور تھا۔ راویوں نے اس کی ظاہری شکل و صورت اور مقدار کو کبوتر کے انڈے سے تشبیہ دی ہے۔[11] (حاشیہ ترمذی ج۲ ص۲۰۵ باب ماجاء فی خاتم النبوۃ)

 

*جاری ہے۔۔۔*

 

[1] ۔۔۔ حیاۃ الحیوان الکبری،باب الہمزۃ،ج۱،ص۷۵

[2] ۔۔۔ شرح دیوان حسان بن ثابت الانصاری،ص۶۶

[3] ۔۔۔ قصیدۃ البردۃ مع شرحہا،ص۱۱۱

[4] ۔۔۔ الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۱۱،ص۲۴،۲۵

[5] ۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب صفۃالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۳۵۶۱،ج۲،ص۴۸۹

[6] ۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب صفۃالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۳۵۵۶،ج۲،ص۴۸۸

[7] ۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب الاستئذان،باب من زارقوما۔۔۔الخ،الحدیث:۶۲۸۱،ج۴،ص۱۸۲

[8] ۔۔۔ المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،الفصل الاول فی کمال خلقتہ۔۔۔الخ،ج۵،ص۵۲۴۔۵۲۵

[9] ۔۔۔ المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،الفصل الرابع مااختص بہ۔۔۔الخ،ج۷،ص۲۰۰

[10] ۔۔۔ الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی خاتم النبوۃ،الحدیث:۱۶،ص۲۸

[11] ۔۔۔ حاشیۃجامع الترمذی،ابواب المناقب،باب ماجاء فی خاتم النبوۃ،حاشیۃ:۲،ج۲،ص۲۰۶ 

[11] ۔۔۔ حاشیۃجامع الترمذی،ابواب المناقب،باب ماجاء فی خاتم النبوۃ،حاشیۃ:۲،ج۲،ص۲۰۶


••┈•••○○❁⭕❁○○•••┈••

✍️ کَتـــَبَہُ:

مـرکزی میـڈیا سیـل

طَـرزِ رَضَـا نِیـٹوَرک

💬 https://chat.whatsapp.com/I17kpm09EQR0v1I7L7uTRG

📝 www.tarzeraza.blogspot.com

🌎 www.facebook.com/tarzeraza

°.✩┈∘┈✧❁✧┈∘┈✩.°

+923147484963💬

No comments:

Post a Comment