*وہابیت کا بیان*
وہابی… یہ ایک نیا فرقہ ہے جو ۱۲۰۹ھ
میں پیدا ہوا، اِس مذہب کا بانی محمد بن عبدالوہاب نجدی[134] تھا، جس نے تمام عرب، خصوصاً حرمین شریفین میں بہت شدید
فتنے پھیلائے، علما کو قتل کیا[135]، صحابۂ کرام و ائمہ و علما و شہدا کی
قبریں کھود ڈالیں ، روضۂ انور کا نام معاذاللہ ’’صنمِ اکبر‘‘ رکھا
تھا[136] یعنی بڑا بت، اور طرح طرح کے ظلم
کیے جیسا کہ صحیح حدیث میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے خبر دی تھی کہ’’ نجد سے فتنے اٹھیں گے اور شیطان
کا گروہ نکلے گا‘‘[137] وہ گروہ بارہ سو برس بعدیہ ظاہر ہوا۔
علامہ شامی رَحِمَہُاللہ تَعَالٰی نے اِسے خارجی بتایا۔[138] اِس عبدالوہاب کے بیٹے نے ایک کتاب لکھی جس کا نام’’کتاب
التوحید‘‘[139]رکھا ، اُس کا ترجمہ ہندوستان
میں ’’اسماعیل دہلوی‘‘[140] نے کیا، جس کا نام’’تقویۃ الایمان‘‘
رکھا اور ہندوستان میں اسی نے وہابیت پھیلائی۔
اِن وہابیہ کا ایک بہت بڑا عقیدہ یہ ہے کہ جو اِن کے مذہب پر نہ ہو، وہ کافر مشرک ہے۔ [141] یہی وجہ ہے کہ بات بات پر محض بلاوجہ مسلمانوں پر حکمِ شرک و کفرلگایا کرتے اور تمام دنیا کو مشرک بتاتے ہیں ۔ چنانچہ ’’تقویۃ الایمان‘‘ صفحہ ۴۵ میں وہ حدیث لکھ کر کہ ...
’’آخر زمانہ میں اللہ تَعَالٰی ایک ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھا لے گی۔‘‘ [142] اِس کے بعد صاف لکھ دیا: ’’سو پیغمبرِ خدا کے فرمانے کے موافق ہوا‘‘[143]، یعنی وہ ہوا چل گئی اور کوئی مسلمان روئے زمین پر نہ رہا ، مگر یہ نہ سمجھا کہ اس صورت میں خود بھی تو کافر ہوگیا۔اِس مذہب کا رکنِ
اعظم، اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی توہین اور محبوبانِ خدا کی تذلیل ہے،
ہر امر میں وہی پہلو اختیار کریں گے جس سے منقصت نکلتی ہو۔ [144] اس مذہب کے سرگروہوں کے بعض اقوال نقل کرنا مناسب معلوم
ہوتا ہے، کہ ہمارے عوام بھائی ان کی قلبی خباثتوں پر مطلع ہوں اور ان کے
دامِ تزویر [145] سے بچیں اور ان کے جبّہ و دستار
پر نہ جائیں ۔ برادرانِ اسلام بغور سُنیں اور میزانِ ایمان
میں تولیں کہ ایمان سے زیادہ عزیز مسلمان کے نزدیک کوئی چیز
نہیں اور ایمان، اللہ و رسول (عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کی محبت و تعظیم ہی کا نام
ہے۔ ایمان کے ساتھ جس میں جتنے فضائل پائے جائیں وہ اُسی قدر زیادہ
فضیلت رکھتا ہے، اور ایمان نہیں تو مسلمانوں کے نزدیک وہ کچھ وقعت
نہیں رکھتا اگرچہ کتنا ہی بڑا عالم و زاہد و تارک الدنیا وغیرہ بنتا ہو،
مقصود یہ ہے کہ اُن کے مولوی اور عالم فاضل ہونے کی وجہ سے اُنھیں تم اپنا
پیشوا نہ سمجھو، جب کہ وہ اللہ و
رسول (عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کے
دشمن ہیں ، کیا یہود ونصاریٰ بلکہ ہنود میں بھی اُن کے مذاہب کے عالم یا
تارک الدنیا نہیں ہوتے۔۔۔؟! کیا تم اُن کو اپنا پیشوا تسلیم کرسکتے ہو۔۔۔؟!
ہرگز نہیں ! اِسی طرح یہ لامذہب و بد مذہب تمھارے کسی طرح مقتدا
نہیں ہوسکتے۔
’’اِیضاح الحق‘‘
صفحہ ۳۵ و صفحہ ۳۶ مطبع فاروقی میں ہے[146] : (’’تنزیہ اُو تعالٰی از زمان و مکان و
جہت و اثباتِ رویت بلاجہت و محاذاتِ ہمہ از قبیل بدعاتِ حقیقیہ است، اگر صاحبِ آں اعتقاداتِ
مذکورہ را از جنسِ عقائدِ دینیہ مے شمارد‘‘) . [147]
اس میں صاف
تصریح ہے کہ اللہ تَعَالٰی کو زمان و مکان و جہت سے پاک جاننا اور
اس کا دیدار بلا کیف ماننا، بدعت و گمراہی ہے، حالانکہ یہ تمام اہلِ سنت کا عقیدہ
ہے۔[148] تو اِس قائل نے تمام پیشوایانِ اہلسنت
کو گمراہ و بدعتی بتایا، ’’بحر الرائق‘‘ و ’’دُرّ ِمختار‘‘و’’عالمگیری‘‘
میں ہے :کہ اللہتَعَالٰی کے لیے جو مکان ثابت کرے، کافر ہے۔[149]
’’تقویۃ الایمان‘‘
صفحہ ۶۰ میں یہ حدیث:
((أَرأَیْتَ لَوْ
مَرَرْتَ بِقَبْرِيْ أَ کُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ۔))[150]
نقل کر کے ترجمہ کیا
کہ ’’بھلا خیال تو کر جو تُو گزرے میری قبر پر، کیا سجدہ کرے تو اُس کو‘‘، اُس کے
بعد (ف) لکھ کر فائدہ یہ جَڑ دیا: ( یعنی میں بھی ایک دن مر کر مٹی
میں ملنے والا ہوں ۔) [151] حالانکہ نبی صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَفرماتے ہیں :
((إِنَّ اللہَ
حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أنْ تَأْکُلَ أجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ۔))[152]
’’اللہ تَعَالٰی نے
اپنے انبیا علیہم السلام کے اَجسام کھانا، زمین پر حرام کر دیا ہے۔‘‘
((فَنَبِيُّ اللہِ
حَيٌّ یُّرْزَقُ۔)) [153]
’’تو اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے
نبی زندہ ہیں ، روزی دیے جاتے ہیں ۔‘‘
اِسی ’’تقویۃ
الایمان‘‘ صفحہ ۱۹ میں ہے: ’’ہمارا جب خالق اللہ ہے اور
اس نے ہم کو پیدا کیا توہم کو بھی چاہیے کہ اپنے ہر کاموں پر اُسی کو پکاریں اور
کسی سے ہم کو کیا کام؟ جیسے جو کوئی ایک بادشاہ کا غلام ہوچکا تو وہ اپنے ہر کام
کا علاقہ اُسی سے رکھتا ہے، دوسرے بادشاہ سے بھی نہیں رکھتا اور کسی چوہڑے
چمار کا تو کیا ذکر۔‘‘ [154] انبیائے کرام و اولیائے عِظام کی شان
میں ایسے ملعون الفاظ استعمال کرنا، کیا مسلمان کی شان ہو سکتی ہے۔۔۔؟!
’’صراطِ مستقیم‘‘
صفحہ ۹۵: ’’بمقتضائے { ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍؕ- } [155] از وسوسۂ زنا، خیالِ مجامعتِ زوجہ خود بہتراست، و صرفِ
ہمت بسوئے شیخ و اَمثالِ آں از معظمین گو جنابِ رسالت مآب باشند
بچندیں مرتبہ بد تر از استغراق درصورتِ گاؤ و خرِ خود ست۔‘‘ [156]
مسلمانو ! یہ
ہیں اِمام الو ہابیہ کے کلماتِ خبیثات! او ر کس کی شان میں ؟ حضور
اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شان میں ! جس کے
دل میں رائی برابر بھی ایمان ہے، وہ ضروریہ کہے گا کہ اِس قول میں گستاخی
ضرور ہے۔
’’تقویۃ الایمان‘‘
صفحہ ۱۰:
’’روزی کی کشائش اور
تنگی کرنی اور تندرست و بیمار کر دینا، اِقبال و اِدبار [157] دینا، حاجتیں بر لانی، بلائیں ٹالنی، مشکل
میں دستگیری کرنی، یہ سب اللہ ہی کی شان ہے اور کسی انبیا، اولیا،
بھوت، پری کی یہ شان نہیں ، جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے اور اس سے
مرادیں مانگے اور مصیبت کے وقت اُس کو پکارے، سو وہ مشرک ہو جاتا ہے، پھر
خواہ یوں سمجھے کہ اِن کاموں کی طاقت اُن کو خود بخود ہے، خواہ
یوں سمجھے کہ اللہ نے اُن کو قدرت بخشی ہے، ہر طرح شرک ہے۔ ‘‘[158]
’’قرآن مجید‘‘
میں ہے:
{ اَغْنٰىهُمُ
اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖۚ- }[159]
’’اُن کو اللہ و
رسول اللہ نے غنی کر دیا اپنے فضل سے۔‘‘
قرآن تو کہتا ہے کہ
نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے دولت مند کر دیا اور یہ
کہتا ہے: ’’جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے مشرک ہے۔‘‘ تو اِس کے طور پر قرآنِ
مجید شرک کی تعلیم دیتا ہے۔۔۔! قرآن عظیم میں ارشاد ہے:
{ وَ تُبْرِئُ
الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْۚ-}[160]
’’اے عیسیٰ! تُو میرے
حکم سے مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اچھا کر دیتا ہے۔‘‘
اور دوسری جگہ ہے:
{ وَ اُبْرِئُ
الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-}[161]
’’عیسیٰ عَلَیْہِ
الصَّلاَۃُ وَالسَّلَام فرماتے ہیں : میں اچھا کرتا ہوں مادر
زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اورمُردوں کو جِلا دیتا ہوں اللہ کے
حکم سے۔‘‘
اب قرآن کا تو یہ
حکم ہے اور وہابیہ یہ کہتے ہیں کہ تندرست کرنا اللہ (عَزَّوَجَلَّ) ہی
کی شان ہے، جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے مشرک ہے۔ اب وہابی
بتائیں کہ اللہ تَعَالٰی نے ایسا تصرّف حضرت
عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے ثابت کیا تو اُس پر کیا حکم لگاتے ہیں
۔۔۔؟! اور لُطف یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اگر اُن کو قدرت بخشی
ہے، جب بھی شرک ہے تو معلوم نہیں کہ اِن کے یہاں اِسلام کس چیز کا نام
ہے؟
’’تقویۃ الایمان‘‘
صفحہ ۱۱:
’’گِرد و پیش کے جنگل
کا ادب کرنا، یعنی وہاں شکار نہ کرنا، درخت نہ کاٹنا، یہ کام اللہ نے
اپنی عبادت کے لیے بتائے ہیں ، پھر جو کوئی کسی پیغمبر یا بھوت کے
مکانوں کے گِرد و پیش کے جنگل کا ادب کرے، اُس پر شرک ثابت ہے، خواہ
یوں سمجھے کہ یہ آپ ہی اِس تعظیم کے لائق ہے، یا یوں کہ اُن کی اِس
تعظیم سے اللہ خوش ہوتا ہے، ہر طرح شرک ہے۔‘‘ [162]
متعدد صحیح
حدیثوں میں ارشاد فرمایا: کہ ’’ابراہیم نے مکہ کو حرم بنایا اور
میں نے مدینے کو حرم کیا، اِس کے ببول کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اِس کا
شکار نہ کیا جائے۔‘‘ [163]
مسلمانو! ایمان سے
دیکھنا کہ اس شرک فروش کا شرک کہاں تک پہنچتا ہے! تم نے دیکھا اِس گستاخ نے
نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَپر کیا حکم جَڑا۔۔۔؟!
’’تقویۃ الایمان‘‘
صفحہ ۸:
’’پیغمبرِ خدا کے وقت
میں کافر بھی اپنے بتوں کو اللہ کے برابر نہیں جانتے
تھے، بلکہ اُسی کا مخلوق اور اس کا بندہ سمجھتے تھے اور اُن کو اُس کے مقابل کی
طاقت ثابت نہیں کرتے تھے، مگر یہی پکارنا اور منتیں ماننی اور نذر و
نیاز کرنی اور ان کو اپنا وکیل و سفارشی سمجھنا، یہی اُن کا کفر و شرک تھا، سو جو
کوئی کسی سے یہ معاملہ کرے، گو کہ اُس کو اللہ کا بندہ ومخلوق ہی سمجھے،
سو ابوجہل اور وہ شرک میں برابر ہے۔‘‘ [164]
یعنی جو
نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شفاعت مانے، کہ
حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کے دربار میں ہماری سفارش فرمائیں گے تو معاذ اللہ اس
کے نزدیک وہ ابو جہل کے برابر مشرک ہے، مسئلۂ شفاعت کا صرف انکار ہی
نہیں بلکہ اس کو شرک ثابت کیا اور تمام مسلمانوں صحابہ و تابعین و ائمۂ
دین و اولیا و صالحین سب کو مشرک و ابو جہل بنا دیا۔
’’تقویۃ الایمان‘‘
صفحہ ۵۸:
’’کوئی شخص کہے:
فُلانے درخت میں کتنے پتے ہیں ؟ یا آسمان میں کتنے تارے
ہیں ؟ تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے، کہ
اللہ و رسول ہی
جانے، کیونکہ غیب کی بات اللہ ہی جانتا ہے، رسول کو کیا خبر۔‘‘ [165]
سبحان اللہ ۔۔۔!
خدائی اسی کا نام رہ گیا کہ کسی پیڑ کے پتے کی تعداد جان لی جائے۔
’’تقویۃ الایمان‘‘
صفحہ۷:
’’اللہ صاحب نے
کسی کو عالم میں تصرّف کرنے کی قدرت نہیں دی۔‘‘ [166]
اِس میں انبیائے
کِرام کے معجزات اور اولیا عظام کی کرامت کا صاف انکار ہے۔
اللہ تَعَالٰی فرماتا
ہے:
{ فَالْمُدَبِّرٰتِ
اَمْرًاۘ(۵)}[167]
’’قسم فرشتوں کی
جو کاموں کی تدبیر کرتے ہیں ۔‘‘
تو یہ قرآن کریم کو
صاف رد کر رہا ہے۔
صفحہ ۲۲: ’’جس
کا نام محمد یا علی ہے، وہ کسی چیز کا مختار نہیں ۔‘‘ [168]
تعجب ہے کہ وہابی صاحب
تو اپنے گھر کی تمام چیزوں کا اختیار رکھیں اور مالکِ ہر دو
سَرا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکسی چیز کے مختار نہیں
۔۔۔!
اِس گروہ کا ایک
مشہور عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی جھوٹ بول سکتا ہے۔ [169] بلکہ اُن کے ایک سرغَنہ نے تو اپنے ایک فتوے میں لکھ
دیا کہ: ’’وقوعِ کذب کے معنی درست ہوگئے، جو یہ کہے کہ اللہ تَعَالٰی جھوٹ
بول چکا، ایسے کو تضلیل و تفسیق سے مامون کرنا چاہیے‘‘ ۔[170]
سبحان اللہ ۔۔۔!
خدا کو جھوٹا مانا، پھر بھی اسلام و سنّیت و صلاح کسی بات میں فرق نہ آیا،
معلوم نہیں ان لوگوں نے کس چیز کو خدا ٹھہرا لیا ہے! ۔
ایک عقیدہ ان کا یہ
ہے کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکو خاتم
النبیین بمعنی آخر الانبیاء نہیں مانتے۔[171] اور یہ صریح کفر ہے۔[172]
چنانچہ ’’تحذیر
الناس‘‘ ص ۲ میں ہے:
’’عوام کے خیال
میں تورسول اللہ صلعم[173]؎ [174] کا خاتم ہونا
بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے بعد اور آپ سب میں آخر
نبی ہیں ، مگر اہلِ فہم پر روشن ہو گا کہ تقدّم یا تاخّر میں بالذات کچھ
فضیلت نہیں ، پھر مقامِ مدح میں { وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ
خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-}[175] فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح
ہوسکتا ہے۔ ہاں ! اگر اِس وصف کو اَوصافِ مدح میں سے نہ کہیے اور اِس
مقام کو مقامِ مدح نہ قرار دیجیے تو البتہ خاتمیت باعتبارِ تاخّرِ زمانی صحیح
ہوسکتی ہے۔‘‘ [176]
پہلے تو اس قائل نے
خاتم النبیین کے معنی تمام انبیا سے زماناً متاخّر ہونے کو خیالِ عوام کہا اور یہ
کہا کہ اہلِ فہم پر روشن ہے کہ اس میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ۔ حالانکہ حضور
اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے خاتم النبیین کے یہی
معنی بکثرت احادیث میں ارشاد فرمائے [177] تو معاذ اللہ اس
قائل نے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کو
عوام میں داخل کیا اور اہلِ فہم سے خارج کیا، پھر اس نے ختمِ زمانی کو
مطلقاً [178]؎ فضیلت سے خارج کیا، حالانکہ اسی
تاخّرِ زمانی کو حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) نے
مقامِ مدح میں ذکر فرمایا۔
پھر
صفحہ ۴ پر لکھا: ’’آپ موصوف بوصفِ نبوت بالذات ہیں اور سِوا آپ
کے اور نبی موصوف بوصفِ نبوت بالعرض۔‘‘[179]
صفحہ ۱۶: ’’بلکہ
بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو، جب بھی آپ کا خاتم
ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔‘‘ [180]
صفحہ ۳۳: ’’بلکہ
اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت ِمحمدی
میں کچھ فرق نہ آئے گا، چہ جائیکہ آپ کے مُعاصِر[181] کسی اور زمین
میں ، یا فرض کیجیے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے۔‘‘ [182]
لطف یہ کہ اِس قائل
نے اِن تمام خرافات کا ایجادِ بندہ ہونا خود تسلیم کرلیا:
صفحہ ۳۴ پر
ہے: ’’اگر بوجہِ کم اِلتفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تک نہ پہنچا تو اُن کی
شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفلِ نادان [183] نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی توکیا اتنی بات سے وہ عظیم
الشان ہو گیا ؎
گاہِ باشد کہ کو دکِ ناداں
بغلط برہدف زنَد
تِیرے[184]
ہاں بعد وضوحِ
حق [185] اگر فقط اس وجہ سے کہ یہ بات
میں نے کہی اور وہ اَگلے کہہ گئے تھے، میری نہ مانیں اور وہ پرانی بات
گائے
جائیں تو قطع
نظر اِس کے کہ قانونِ محبتِ نبوی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَسے
یہ بات بہت بعید ہے، ویسے بھی اپنی عقل و فہم کی خوبی پر گواہی دیتی ہے۔‘‘ [186]
یہیں سے ظاہر ہو
گیا جو معنی اس نے تراشے سلف میں کہیں اُس کاپتا نہیں ، اور
نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے زمانہ سے آج تک جو سب
سمجھے ہوئے تھے اُس کو خیالِ عوام بتا کر رد کر دیا کہ اِس میں کچھ فضیلت
نہیں ، اِس قائل پر علمائے حرمین طیبین نے جو فتویٰ دیا وہ ’’ حُسامُ
الحرمَین‘‘[187] کے مطالعہ سے ظاہر۔
اور اُس نے خود بھی
اسی کتاب کے صفحہ ۴۶ میں اپنا اسلام برائے نام تسلیم کیا۔ [188]
ع مدعی لاکھ پہ
بھاری ہے گواہی تیری
اِن نام کے مسلمانوں سے اللہ (عزوجل) بچائے۔
اسی کتاب کے
صفحہ ۵ پر ہے: ’’کہ انبیا اپنی امّت سے ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی
میں ممتاز ہوتے ہیں ، باقی رہا عمل، اس میں بسا اوقات بظاہر امّتی
مساوی ہو جاتے ہیں ، بلکہ بڑھ جاتے ہیں ۔‘‘ [189]
اور سنیے! اِن قائل
صاحب نے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کی
نبوت کو قدیم اور دیگر انبیا کی نبوت کو حادث بتایا:
صفحہ ۷ میں ہے: ’’کیونکہ
فرق قِدمِ نبوت اور حُدوثِ نبوت باوجود اتحادِ نوعی خوب جب ہی چسپاں ہوسکتا
ہے۔‘‘ [190]
کیا ذات و صفات کے
سوا مسلمانوں کے نزدیک کوئی اور چیز بھی قدیم ہے۔۔۔؟! نبوت صفت ہے اور صفت کا
وجود بے موصوف محال، جب حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی
نبوت قدیم غیر حادث ہوئی تو ضرور نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَبھی
حادث نہ ہوئے بلکہ ازلی ٹھہرے اور جو اللہ (عَزَّوَجَلَّ) و صفاتِ
الٓہیہ کے سوا کسی کو قدیم مانے باجماعِ مسلمین کافر ہے۔[191]
اِس گروہ کا یہ عام
شیوہ ہے کہ جس امر میں محبوبانِ خدا کی فضیلت ظاہر ہو، طرح طرح کی جھوٹی
تاویلات سے اسے باطل کرنا چاہیں گے اور وہ امر ثابت کریں گے جس
میں تنقیص[192] ہو، مثلاً ’’بَراہینِ قاطعہ‘‘
صفحہ ۵۱ میں لکھ دیاکہ:
’’نبی صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں
۔‘‘ [193]
اور اُس کو شیخ
محدّثِ دہلوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ کی طرف غلط منسوب کر
دیا، بلکہ اُسی صفحہ پر وسعتِ علمِ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی
بابت یہاں تک لکھ دیا کہ:
’’الحاصل غور کرنا
چاہیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علمِ محیطِ زمین کا فخرِ عالَم کو
خلافِ نصوصِ قطعیہ کے بِلادلیل محض قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون
سا ایمان کا حصہ ہے کہ شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی، فخرِ عالم کی
وسعتِ علم کی کونسی نصِ قطعی ہے کہ جس سے تمام نُصوص کو رد کر کے ایک شرک ثابت
کرتا ہے۔‘‘ [194]
جس وسعتِ علم کو
شیطان کے لیے ثابت کرتا اور اُس پر نص ہونا بیان کرتا ہے، اُسی کو نبی صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے لیے شرک بتاتا ہے تو شیطان کو خدا کا
شریک مانا اور اُسے آیت وحدیث سے ثابت جانا۔ بے شک شیطان کے بندے شیطان کو مستقل
خدا نہیں تو خدا کا شریک کہنے سے بھی گئے گزرے، ہر مسلمان اپنے ایمان کی
آنکھوں سے دیکھے کہ اِس قائل نے ابلیسِ لعین کے علم کو
نبی صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے علم سے زائد بتایا یا نہیں ؟ ضرور
زائد بتایا! اور شیطان کو خدا کا شریک مانا یا نہیں ؟ ضرور مانا! اور پھر اس
شرک کو نص سے ثابت کیا، یہ تینوں امر صریح کفر اور قائل یقینی کافر ہے،
کون مسلمان اس کے کافر ہونے میں شک کرے گا۔۔۔؟! ۔
’’حفظ الایمان‘‘
صفحہ ۷ میں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کے
علم کی نسبت یہ تقریر کی:
’’آپ کی ذاتِ مقدّسہ
پر علمِ غیب کا حکم کیا جانا اگر بقولِ زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس
غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کُل غیب، اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں تو اِس
میں حضور کی کیا تخصیص ہے، ایسا علمِ غیب تو زید وعَمرو، بلکہ ہر صبی ومجنون،
بلکہ جمیع حیوانات و بَہائم کے لیے بھی حاصل ہے۔‘‘ [195]
مسلمانو! غور کرو کہ
اِس شخص نے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شان
میں کیسی صریح گستاخی کی، کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) جیسا
علم زید و عَمرو تو زید و عَمرو، ہر بچے اور پاگل، بلکہ تمام جانوروں اور
چوپایوں کے لیے حاصل ہونا کہا، کیا ایمانی قلب ایسے شخص کے کافر ہونے
میں شک کرسکتے ہیں ۔۔۔؟ ہر گز نہیں ۔
اس قوم کا یہ عام
طریقہ ہے کہ جس چیز کو اللہ و رسول (عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) نے منع نہیں کیا، بلکہ
قرآن و حدیث سے اس کا جواز ثابت، اُس کو ممنوع کہنا تو درکنار، اُس پر شرک و بدعت
کا حکم لگا دیتے ہیں ، مثلاً مجلسِ میلاد شریف اور قیام و ایصالِ ثواب و
زیارتِ قبور و حاضریٔ بارگاہِ بیکس پناہ سرکارِ مدینہ طیبہ، و عُرسِ بزرگانِ دین و
فاتحۂ سوم و چہلم، و استمداد باَرواحِ انبیا و اولیا [196]اور مصیبت کے وقت انبیا و اولیا کو پکارنا وغیرہا، بلکہ میلاد شریف کی
نسبت تو ’’براہینِ قاطعہ‘‘ صفحہ ۴۸ ۱ میں یہ ناپاک لفظ لکھے:
’’پس یہ ہر روز
اِعادہ ولادت کا تو مثلِ ہنود کے، کہ سانگ کَنہیا[197] کی ولادت کا ہر سال
کرتے ہیں ، یا مثلِ روافض کے، کہ نقلِ شہادتِ اہلبیت ہر سال بناتے ہیں ،
معاذ اللہ سانگ [198] آپ کی ولادت کا ٹھہرا اور
خود حرکتِ قبیحہ[199]قابلِ لَوم[200] وحرام و فسق ہے، بلکہ
یہ لوگ اُس قوم سے بڑھ کر ہوئے، وہ تو تاریخِ معیّن پر کرتے ہیں ، اِن کے
یہاں کوئی قید ہی نہیں ، جب چاہیں یہ خرافاتِ فرضی بتاتے ہیں
۔‘‘ [201]
(۴) غیر
مقلدین: یہ بھی وہابیت ہی کی ایک شاخ ہے، وہ چند باتیں جو حال
میں وہابیہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور نبی صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شان میں بکی ہیں ، غیر مقلدین سے
ثابت نہیں ، باقی تمام عقائد میں دونوں شریک ہیں اور اِن حال
کے اشد دیو بندی کفروں میں بھی وہ یوں شریک ہیں کہ ان پر اُن
قائلوں کو کافر نہیں جانتے اور اُن کی نسبت حکم ہے کہ جو اُن کے کفر میں شک
کرے، وہ بھی کافر ہے۔ ایک نمبر اِن کا زائد یہ ہے کہ چاروں مذہبوں سے
جدا، تمام مسلمانوں سے الگ انھوں نے ایک راہ نکالی، کہ تقلید کو حرام و
بدعت کہتے اور ائمۂ دین کو سبّ و شتم سے یاد کرتے ہیں ، مگر
حقیقۃً تقلید سے خالی نہیں ، ائمۂ دین کی تقلید تو نہیں کرتے، مگر
شیطانِ لعین کے ضرور مقلّد ہیں ۔ یہ لوگ قیاس کے منکِر ہیں اور قیاس کا
مطلقاً اِنکار کفر،[202] تقلید کے منکر ہیں اور تقلید کا
مطلقاً انکار کفر۔[203]
مسئلہ: مطلق
تقلید فرض ہے [204] اور تقلیدِ شخصی واجب۔[205]
ضروری
تنبیہ: وہابیوں کے یہاں بدعت کا بہت خرچ ہے، جس چیز کو
دیکھیے بدعت ہے، لہٰذا بدعت کسے کہتے ہیں اِسے بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا
ہے۔ بدعتِ مذمومہ و قبیحہ وہ ہے جو کسی سنّت کے مخالف ومزاحم ہو،[206] اور یہ مکروہ یا حرام ہے۔ اور مطلق بدعت تو مستحب، بلکہ
سنّت، بلکہ واجب تک ہوتی ہے۔[207]
حضرت امیر المؤمنین
عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تراویح کی نسبت فرماتے
ہیں :
((نِعْمَتِ
الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ۔))[208]
’’یہ اچھی بدعت ہے۔‘‘
حالانکہ تراویح سنّتِ
مؤکدہ ہے[209]، جس امر کی اصل شرع شریف سے ثابت ہو وہ ہرگز
بدعتِ قبیحہ نہیں ہوسکتا، ورنہ خود وہابیہ کے مدارس اور اُن کے وعظ کے جلسے،
اس ہیأتِ خاصہ کے ساتھ ضرور بدعت ہوں گے۔ پھر
انھیں کیوں نہیں موقوف کرتے۔۔۔؟ مگر ان کے یہاں تو یہ ٹھہری
ہے کہ محبوبانِ خدا کی عظمت کے جتنے اُمور ہیں ، سب بدعت اور جس میں اِن
کا مطلب ہو، وہ حلال و سنت۔
وَلَا حَوْلَ وَلَا
قُوَّۃَ إِلَّابِاللہِ۔ (بہارِشریعت ،حصہ اول ،جلد۱۔صفحہ۱۷۲تا۲۳۶)
[134] … محمد بن عبد الوھاب بن سلیمان التمیمي
النجدي الوہابي الذي تنسب إلیہ الطائفۃ
الوھابیۃ، ولد (۱۱۱۵) وتوفي (۱۲۰۶)۔ ’’ہدیۃ العارفین‘‘، ج۲، ص۳۵۰، و’’الأعلام‘‘ للزرکلي،ج۶، ص۲۵۷، و’’معجم المؤلفین‘‘، ج۳، ص۴۷۲۔
[135] … في ’’ردالمحتار‘‘، کتا ب الجھاد، باب البغاۃ، مطلب
في أتباع [محمد بن]عبد الوھاب الخوارج في زماننا، ج۶، ص۴۰۰: (وقع
في زماننا في أتباع [محمد بن]عبد الوھاب الذ ین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین
وکانواینتحلون مذ ھب الحنابلۃ، لکنّھم اعتقدوا أنّھم ھم المسلمون وأنّ من
خالف اعتقادھم مشرکون، واستباحوا بذ لک قتل أھل السنّۃ وقتل علمائھم)۔
[136] … قال محمد بن
عبدالوھاب نجدی: (فالقبر المعظّم المقدّس وَثَنٌ وصنمٌ بکل معاني الوثنیّۃ
لوکان الناس
یعقلون)۔ حاشیہ ’’شرح الصدور بتحریم رفع القبور‘‘ لمحمد بن عبد الوھاب، ص ۲۵، مطبوعہ
سعودیہ۔
[137] … عن ابن عمر
قال: ذکر النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((اللّٰھم بارک لنا في
شأمنا، اللّٰھم با رک لنا في یمننا، قالوا: یا رسول اللّٰہ! وفي
نجد نا؟ قال: اللّٰھم بارک لنا في شأمنا، اللّٰھم با رک لنا في
یمننا، قالوا: یا رسول اللّٰہ! وفي نجدنا؟ فأظنہ قال في
الثالثۃ: ھناک الزلازل والفتن، وبھا یطلع قرن
الشیطان))۔’’صحیح البخاري‘‘، کتا ب الفتن، الحدیث:۷۰۹۴، ج۴، ص۴۴۰۔۴۴۱۔
[138] … في’’ردالمحتار‘‘، کتاب الجھاد، ج۶، ص۴۰۰: (ویکفّرون
أصحاب نبیّنا صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم) علمت أنّ ھذا غیر شرط في
مسمّی الخوارج، بل ھو بیان لمن خرجوا علی سیدنا علي رضي اللّٰہ
عنہ، وإلاّ فیکفي فیھم اعتقادھم کفر من خرجوا علیہ کما وقع في زماننا فيأتباع
عبد الوھاب الذین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانوا ینتحلون مذ ہب الحنابلۃ)۔{ اِنَّ
الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّاؕ-}
[پ۲۲، فاطر: ۶] في ’’تفسیر الصاوي‘‘، ج۵، ص۱۶۸۸: وقیل: ہذہ
الآیۃ نزلت في الخوارج الذین یحرفون تأویل الکتاب والسنۃ ویستحلون بذلک دماء
المسلمین وأموالہم لما ھو مشاہد الآن في نظائرہم یحسبون أنّہم علی شيء ألا
إنّہم ہم الکاذبون استحوذ علیہم الشیطن فأنساہم ذکر اللّٰہ أولئک حزب الشیطن ہم
الخاسرون، نسأل اللّٰہ الکریم أن یقطع
دابرہم۔ في ’’شرح النسائی‘‘ للسیوطی، ج۱، ص۳۶۰ : (قولہ: ((کما
یمرق السہم۔۔۔ إلخ)): یرید أنّ دخولہم أي: الخوارج في الإسلام ثم
خروجھم منہ لم یتمسکوا منہ بشیء کالسہم دخل في الرمیۃ ثم نفذ وخرج منہا ولم یعلق
بہ منہا شیء کذا
في ’’المجمع‘‘، ثم لیعلم إنّ الذین یدینون دین ابن عبد الوھاب النجدي یسلکون مسالکہ في الأصول والفروع ویدعون في بلادنا باسم الوھابین وغیر المقلدین ویزعمون أنّ تقلید أحد الأئمۃ الأربعۃ رضوان اللّٰہ علیہم أجمعین شرک وإنّ من خالفہم ہم المشرکون
ویستبیحون قتلنا أہل السنۃ وسبي نسائنا وغیر ذلک من العقائد الشنیعۃ التي وصلت
إلینا منہم بواسطۃ الثقات وسمعناہا بعضاً منہم أیضاً ہم فرقۃ من الخوارج وقد صرح
بہ العلامۃ الشامي في کتابہ ’’ردّ المحتار‘‘۔
[139] … ’’کتاب التوحید‘‘، لمحمد بن عبد الوہاب بن سلیمان النجدي المتوفی۱۲۰۶۔
(’’الأعلام‘‘ للزرکلي، ج۶، ص۲۵۷، و’’معجم المؤلفین‘‘، ج۳، ص۴۷۲۔۴۷۳)۔
[140] … اسماعیل بن عبد
الغني ابن ولي اللّٰہ بن عبد الرحیم العمري الدھلوي، ولد لاثنتي عشرۃ من
ربیع الثانی سنۃ ثلاث وتسعین ومائۃ وألف، وقتل في بالاکوٹ باکستان سنۃ
ست وأربعین ومأتین وألف۔من مصنفاتہ: ’’تقویۃ الایمان‘‘، وغیرہا۔
انظر: ’’نزہۃ الخواطر‘‘، ج۷، ص۶۶۔
[141] … في ’’الدرر السنیۃ في الأجوبۃ النجدیۃ‘‘، لعبد الرحمن بن محمد بن قاسم المتوفی ۱۳۹۲ھ، ج۱، ص۶۷: (واعلم
أنّ المشرکین في زماننا: قد زادوا علی الکفار في زمن النبي صلی اللّٰہ علیہ
وسلم بأنّہم یدعون الملائکۃ، والأولیائ، والصالحین ویریدون شفاعتہم
والتقرب إلیہم۔۔۔ إلخ)۔ وفي ص۶۹: (وعرفت أنّ إقرارہم بتوحید
الربوبیۃ لم یدخلہم في الإسلام، وأن قصدہم الملائکۃ والأنبیاء والأولیاء
یریدون شفاعتہم والتقرب إلی اللّٰہ تعالی بہم ہو الذي أحل دمائہم
وأموالہم۔۔۔ إلخ)۔
وفي ’’رد المحتار‘‘، کتاب الجھاد، ج۶، ص۴۰۰: ( لکنّھم
اعتقدوا أنّھم ھم المسلمون وأنّ من خالف اعتقادھم مشرکون)۔
[142] … ((ثم یبعث اللّٰہ
ریحا طیبۃ، فتوفّی کل من في قلبہ مثقال حبۃ من خردل من إیمان فیبقی من لا خیر
فیہ، فیرجعون إلی دین آبائہم))۔ ’’صحیح
مسلم‘‘، کتاب الفتن ، باب لا تقوم الساعۃ حتی تعبد دوس ذا الخلیصۃ، الحدیث: ۷۲۹۹، ص۱۱۸۲۔
[143] … ’’تقویۃ الإیمان‘‘، باب أول، فصل۴: شرک
فی العبادات کی برائی کا بیان، ص۴۵:_
[144] … ان کی شان میں نقص
و عیب ظاہر ہوتا ہو۔
[145] … مکر وفریب۔
[146] … ’’إیضاح الحق‘‘، (مترجم اردو) فائدہ
اول، پہلا مسئلہ، ص۷۷۔۷۸، قدیمی کتب خانہ۔
[147] … یعنی: اللہ
تَعَالٰی کو زمان ومکان اور جہت سے پاک قرار دینا اور اس کا دیدار بلا جہت
وکیف ثابت کرنا یہ تمام امور از قبیل بدعت حقیقیہ ہیں اگر کوئی شخص ان مذکورہ
اعتقادات کو دینی اعتقاد شمار کرے۔
[148] … ’’ تحفہ اثنا عشریہ
‘‘میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ
تَعَالٰی علیہ فرماتے ہیں : (عقیدہ سیزدہم آنکہ
حق تعالی را مکان نیست واو را جہت از فوق وتحت متصور نیست وہمینست مذہب
اہل سنت وجماعت)
یعنی:تیرھواں عقیدہ
یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی کے لیے مکان اور فوق وتحت کی جہت متصور
نہیں ہے اور یہی اہل سنت وجماعت کا مذہب
ہے۔ (’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘، (مترجم) پانچواں باب، مسائل الہیات، ص۲۷۹، دار
الاشاعت)۔
وفي ’’الحدیقۃ الندیۃ‘‘، ج۱، ص۲۴۸۔۲۴۹: (ولا
یتمکن بمکان) أي: واللّٰہ تعالی یستحیل علیہ أن یکون في مکان، (ولا
یجري علیہ) سبحانہ وتعالی (زمان، ولیس لہ) تعالی (جہۃ من
الجہات الست) التي ہي فوق وتحت ویمین ویسار وقدام وخلف، لأنّہ تعالی لیس
بجسم حتی تکون لہ جہۃ کما للأجسام، ملتقطا۔
وفي’’الفقہ الأکبر‘‘، ص۸۳: (واللّٰہ
تعالی یری في الآخرۃ، ویراہ المؤمنون وہم في الجنۃ بأعین رؤوسہم بلا تشبیہ
ولا کیفیۃ، ولا کمیۃ، ولا یکون بینہ وبین خلقہ
مسافۃ)۔ انظر ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، کتا ب السیر، ج۱۴، ص۲۸۳۔
[149] … في’’البحر الرائق‘‘، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۲: (یکفر
بقولہ یجوز أن یفعل اللّٰہ فعلاً لاحکمۃ فیہ، وبإثبات المکان للّٰہ تعالی
فإن قال: اللّٰہ في السماء فإن قصد حکایۃ ما جاء في ظاہر الأخبار لایکفر وإن
أراد المکان کفر، وإن لم یکن لہ نیۃ کفر عند الأکثر وہو الأصح وعلیہ الفتوی)۔في ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۵۹: (یکفر
بإثبات المکان للّٰہ تعالی)۔
’’ الفتاوی
الرضویۃ ‘‘ ، کتا ب السیر، ج۱۴، ص۲۸۲ ۔ ۲۸۳۔
[150] … ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب النکاح، باب في حق الزوج علی المرأۃ، الحدیث: ۲۱۴۰، ج۲، ص۳۵۵۔
[151] … ’’تقویۃ الإیمان‘‘، باب أوّل، فصل۵، شرک
فی العبادات کی برائی کا بیان، ص۵۷:_
[152] … ’’سنن ابن ماجہ‘‘، کتاب الجنائز، باب
ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ
وسلم، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱۔
’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الصلاۃ، باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ، الحدیث:۱۰۴۶، ج۱، ص۳۹۱۔
’’سنن
النسائی‘‘، کتاب الجمعۃ، باب إکثار الصلاۃ علی النبي صلی
اللہ علیہ وسلم یوم
الجمعۃ، الحدیث: ۱۳۷۱، ص۲۳۷۔’’ المسند‘‘، للإمام أحمد بن حنبل، ج۵، ص۴۶۳، الحدیث:۱۶۱۶۲۔ ’’المستدرک‘‘ للحاکم، کتاب الجمعۃ، الحدیث:۱۰۶۸، ص۵۶۹۔
[153] … ’’سنن ابن ماجہ‘‘، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی
اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱۔
[154] … ’’تقویۃ الایمان‘‘، باب
اول، فصل ۱، شرک سے بچنے کا بیان، ص۲۸:
[155] … پ۱۸، النور:۴۰۔
[156] … ’’صراط مستقیم‘‘، ص۸۶:
یعنی: ظلمات بعضہا
فوق بعض کی بناء پر زنا کے وسوسہ سے اپنی بیوی سے مجامعت کا خیال بہتر ہے اور اپنی
ہمت کو شیخ اور ان جیسے معظم لوگوں خواہ جناب رسالت مآب ہی ہوں ، کی
طرف مبذول کرنا اپنے گائے اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے کئی گناہ بدتر
ہے، کیونکہ ان کا خیال تعظیم اور اجلال کے ساتھ انسان کے دل کی گہرائی
میں چپک جاتا ہے، بخلاف گدھے اور گائے کے خیال میں نہ تو اس قدر چسپیدگی
ہوتی ہے اور نہ ہی تعظیم بلکہ ان کا خیال بے تعظیم اور حقیر ہوتا ہے ،اور یہ غیر
کی تعظیم و اجلال نماز میں ملحوظ و مقصود ہو تو شرک کی طرف کھینچ لیتی ہے۔
157… عروج و
زوال۔
[158] … ’’تقویۃ الایمان‘‘، باب
اوّل، توحید اور شرک کا بیان، ص۲۲:
[159] … پ۱۰، التوبۃ : ۷۴۔
[160] … پ۷، المآئدۃ: ۱۱۰۔
[161] … پ۳، اٰلِ
عمرٰن: ۴۹۔
[162] … ’’تقویۃ الایمان‘‘، باب
اول، توحید اور شرک کا بیان، ص۲۳:
[163] … عن جابر
قال: قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّ ابراہیم حرّم
مکۃ، وإنّي حرمتُ المدینۃ ما بین لابتیھا، لا یقطع عضاھھا ولا یصاد
صیدھا))۔
’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ ودعاء النبي فیھا بالبرکۃ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۱۳۶۲، ص۷۰۹۔
وفي روایۃ: قال
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّي أحرم ما بین لابتي المدینۃ کما حرم إبراہیم حرمہ لا یقطع عضاہہا ولا یقتل صیدہا))۔ ’’المسند‘‘، للإمام أحمد بن حنبل، ج۱، ص۳۸۴، الحدیث: ۱۵۷۳۔
وفي
روایۃ ’’صحیح مسلم‘‘، قال النبيصلی اللّٰہ علیہ
وسلم: ((… اللّہم إنّ إبراہیم حرم مکۃ فجعلہا حرماً، وإنّي حرّمت
المدینۃ حراماً ما بین مأزمیہا أن لا یہراق فیہا دم، ولا یحمل فیہا سِلاح
لقتال، ولا تخبط فیہا شجرۃ إلاّ لعلف، اللّہم بارک لنا في
مدینتنا، اللّہم بارک لنا في صاعنا، اللّہم بارک لنا في
مدّنا، اللّہم بارک لنا في صاعنا، اللّہم بارک لنا في
مدّنا، اللّہم بارک لنا في مدینتنا، اللّہم اجعل مع البرکۃ
برکتین، والذي نفسي بیدہ! ما من المدینۃ شعب ولا نقب إلاّ علیہ ملکان
یحرسانہا حتی تقدموا إلیہا۔۔۔إلخ))۔
’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الحج، باب الترغیب في سکنی المدینۃ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۴۷۵، ص۷۱۳۔۷۱۴۔
[164] … ’’تقویۃ الایمان‘‘، باب
اول، توحید اور شرک کا بیان، ص۲۱:
[165] … ’’تقویۃ الایمان‘‘،
فصل۵: شرک فی العادات کی برائی کا بیان، ص۵۵:
[166] … ’’تقویۃ الایمان‘‘، باب
اول، توحید اور شرک کا بیان، ص۲۰:
[167] … پ۳۰، النّٰزعٰت: ۵
[168] … ’’تقویۃ الایمان‘‘، باب
اول، فصل۴: شرک فی العبادات کی برائی کا بیان، ص۴۳:
[169] … مولوی رشید احمد گنگوہی
اپنی کتاب ’’فتاوی رشیدیہ‘‘ میں اللہ عزوجل کے لیے امکان کذب کو ثابت
کرتے ہوئے لکھتا ہے :
اور دوسرے مقام پر
لکھا:
’’فتاوی رشیدیہ‘‘، کتاب العقائد، ص۲۱۰ ۔ ۲۱۱۔
اسی طرح اسماعیل
دہلوی نے اپنے رسالہ ’’یک روزہ‘‘ (فارسی) میں اللہ تَعَالٰی کی طرف
اِمکان کذب کی نسبت کرتے ہوئے لکھا:
یعنی:
میں (اسماعیل دہلوی)کہتا ہوں : اگر محال سے مراد ممتنع لذاتہ ہے کہ
(جھوٹ) اللہ کی قدرت کے تحت داخل نہیں ، پس ہم (اللہ کے لئے)
مذکورہ کذب کو محال نہیں مانتے کیونکہ واقع کے خلاف کوئی قضیہ و خبر بنانا
اور اس کو فرشتوں اور انبیاء پر القاء کرنا اللہ تَعَالٰی کی قدرت
سے خارج نہیں ورنہ لازم آئیگا کہ انسانی قدرت اللہ تَعَالٰی کی
قدرت سے زائد ہوجائے۔ رسالہ ’’یک روزہ‘‘، ص۱۷۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ مسلمانوں کو
ان کے شر سے محفوظ رکھے آمین ۔ ہم اہلسنت وجماعت کے نزدیک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی
طرف کذب کی نسبت کرنا منع ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے جھوٹ
بولنا محال ہے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا ۔
اللہ
تَعَالٰی قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
{ وَ مَنْ
اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا(۱۲۲)} پ۵، النساء:۱۲۲۔ ترجمہ کنز
الایمان: اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔
{ وَ مَنْ
اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠(۸۷)} پ۵، النساء:۸۷۔ ترجمہ کنز
الایمان: اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔
في ’’تفسیر روح البیان‘‘، ج۲، ص۲۵۵، و’’تفسیر البیضاوي‘‘، ج۲، ص۲۲۹، تحت
ہذہ الآیۃ: ({وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠(۸۷)}، إنکار
أن یکون أحد أکثر صدقاً منہ، فإنّہ لا یتطرق الکذب إلی خبرہ بوجہ؛ لأنّہ
نقص وہو علی اللّٰہ محال)۔ یعنی: اللہ تَعَالٰی اس آیت
میں انکار فرماتا ہے کہ کوئی شخص اللہ سے زیادہ سچا ہو ، اس کی خبر
میں تو جھوٹ کا کوئی شائبہ تک نہیں اس لیے کہ جھوٹ عیب ہے اور
عیب اللہ تَعَالٰی کے لئے محال
ہے۔وفي’’تفسیر الخازن‘‘، ج۱، ص۴۱۰، تحت ہذہ
الآیۃ: { وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ
حَدِیْثًا۠(۸۷)}، یعني: لا أحد أصدق من اللّٰہ فإنّہ لا یخلف المیعاد
ولا یجوز علیہ الکذب)۔
یعنی: مراد یہ ہے
کہ اللہ تَعَالٰی سے زیادہ کوئی سچا نہیں ، بیشک وہ وعدہ کے خلاف
نہیں کرتا اور نہ اس کا جھوٹ بولنا ممکن ہے۔
وفي’’تفسیر أبي السعود‘‘، ج۱، ص۵۶۱، تحت
ہذہ الآیۃ: ({وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠(۸۷)}، إنکارٌ
لأن یکون أحدٌ أصدقَ منہ تعالی في وعدہ وسائرِ أخبارِہ وبیانٌ
لاستحالتہ، کیف لا! والکذِبُ مُحالٌ علیہ سبحانہ دون غیرِہ)۔یعنی: اس آیت سے
ثابت ہوا کہ وعدہ، اور کسی طرح کی خبر دینے میں ، اللہ تَعَالٰی سے
زیادہ سچا کوئی نہیں اور اس کے محال ہونے کی وضاحت بھی ہے اور کیسے نہ ہو کہ
جھوٹ بولنا اللہ سبحانہ وتعالی کے لئے محال ہے بخلاف
دوسروں کے۔{ فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ}
پ۱، البقرۃ:۸۰۔ ترجمہ کنز الایمان: جب تو اللہ ہرگز اپنا عہد
خلاف نہ کرے گا۔
في ’’تفسیر الکبیر‘‘، ج۱، ص۵۶۷، تحت
ہذہ الآیۃ: ({فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ} یدلّ علی أنّہ سبحانہ
وتعالی منزہ عن الکذب وعدہ ووعیدہ، قال أصحابنا: لأنّ الکذب صفۃ
نقص، والنقص علی اللّٰہ محال)۔
یعنی: اللہ
تَعَالٰی کا یہ فرمانا کہ اللہ ہرگز اپنا عہد خلاف نہ کرے گا اس
مدعا پر واضح دلیل ہے کہ اللہ تَعَالٰی اپنے ہر وعدے اور وعید
میں جھوٹ سے پاک ہے ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ جھوٹ صفت نقص ہے اور
نقص اللہ تَعَالٰی کے لئے محال ہے۔
في’’تفسیر الکبیر‘‘، ج۶، ص ۵۲۱: (المؤمن
لا یجوز أن یظنّ باللّٰہ الکذب، بل یخرج بذلک عن الإیمان)۔
في ’’شرح المقاصد‘‘، المبحث
السادس في أنّہ تعالی متکلم: (الکذب محال بإجماع العلماء،؛ لأنّ الکذب نقص
باتفاق العقلاء وہو علی اللّٰہ تعالی محالاھ)، ملخصاً۔
یعنی: جھوٹ باجماع
علماء محال ہے کہ وہ باتفاق عقلاء عیب ہے اور عیب اللہ تَعَالٰی پر محال
اھ۔ ملخصاً۔
وفي مقام
آخر: (محال ہو جہلہ أو کذبہ تعالی عن ذلک)
یعنی: اللہ تبارک
وتعالی کا جہل یا کذب دونوں محال ہیں برتری ہے اسے ان سے۔
وفي شرح عقائد
نسفیہ: (کذب کلام اللّٰہ تعالی محال اھ) ملخصاً یعنی: کلام الہی کا
کذب محال ہے اھ ، ملخصاً۔
وفي ’’طوالع الأنوار‘‘: (الکذب نقص والنقص علی
اللّٰہ تعالی محال اھ)۔ یعنی: جھوٹ عیب ہے اور عیب اللہ
تَعَالٰی پر محال۔
وفي ’’المسامرۃ‘‘ بشرح ’’ المسایرۃ‘‘، ص۲۰۵: (وہو) أي: الکذب (مستحیل
علیہ) تعالی (لأنّہ نقص)۔ یعنی: اور جھوٹ اللہ
تَعَالٰی پر محال ہے اس لیے کہ یہ عیب ہے۔
وفي مقام
آخر، ۳۹۳: (یستحیل علیہ سبحانہ سمات النقص کالجھل والکذب)۔
یعنی: جتنی
نشانیاں عیب کی ہیں جیسے جہل وکذب سب اللہ تَعَالٰی پر محال
ہیں ۔
مزید تفصیل کے لیے
شیخ الاسلام والمسلمین اعلی حضرت عظیم المرتبت مولاناشاہ امام احمد رضا
خان علیہ رحمۃ الرحمن کا ’’فتاوی رضویہ‘‘ میں دیا گیا
رسالہ: ’’سبحن السبوح عن کذب عیب مقبوح ‘‘،
ج۱۵ کا مطالعہ کریں ۔
[170] … یہ الفاظ اس نے اپنے ایک
فتوے میں کہے تھے، اگر کسی کو یہ اصل عبارت دیکھنی ہو تو ہندوستانی حضرات ،
پیلی بھیت اور پاکستانی حضرات دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں تشریف لے جاکر
اطمینان کرسکتے ہیں ۔
[171] … ’’تحذیر
الناس‘‘، خاتم النبییّن کا معنی، ص۴ ۔ ۵۔
[172] … في’’ الفتاوی الہند یۃ‘‘،کتاب السیر، الباب التاسع فيأحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۳:(سمعت
بعضھم یقول: إذا لم یعرف الرجل أنّ محمداً صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخر الأ
نبیاء علیھم وعلی نبینا السلام فلیس بمسلم کذا في ’’الیتیمۃ‘‘)۔وفي ’’الشفاء‘‘، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، الجزء الثاني، ص۲۸۵: (کذ
لک من ادعی نبوۃ أحد مع نبینا صلی اللّٰہ علیہ وسلم أو بعدہ (إلی
قولہ) فھؤلاء کلھم کفار مکذبون للنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم؛ لأنّہ أخبر
صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنّہ خاتم النبیین لا نبي بعدہ وأخبر عن اللّٰہ تعالی
أنّہ خاتم النبیین)۔
وفي ’’المعتقد المنتقد‘‘، ص۱۲۰:(الحجج
التي ثبت بہا بطریق التواتر نبوتہ ثبت بہا أیضاً أنّہ آخر الأنبیاء في زمانہ
وبعدہ إلی یوم القیامۃ لا یکون نبي، فمن شک فیہ یکون شاکاً فیہا
أیضاً، وأیضاً من یقول إنّہ کان نبي بعدہ أو یکون، أو موجود، وکذا
من قال یمکن أن یکون فہو کافر، ہذا شرط صحۃ الإیمان بخاتم الأنبیاء محمد
صلی اللّٰہ علیہ وسلم)۔
173 ؎ … ہم
کہتے ہیں صلی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم۔ ۱۲
[174] … … کیونکہ
رسول اللہ صلی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے
نام پاک کے ساتھ صلعم لکھنا یا صرف ص لکھنا ناجائز و حرام ہے جیسا کہ ’’حاشیۃ
الطحطاوی ‘‘ میں ہے:
(ویکرہ الرمز بالصلاۃ
والترضي بالکتابۃ، بل یکتب ذلک کلہ بکمالہ، وفي بعض المواضع
عن ’’التتارخانیۃ‘‘: من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والمیم یکفر؛
لأنّہ تخفیف وتخفیف الأنبیاء کفر بلا شک ولعلّہ إن صحّ النقل فھو مقید بقصدہ
وإلاّ فالظاھر أنّہ لیس بکفر وکون لازم الکفرکفراً بعد تسلیم کونہ مذھباً
مختاراً محلہ إذا کان اللزوم بیّناً نعم الاحتیاط في الاحتراز عن الإیہام
والشبہۃ)۔ ’’حاشیۃ الطحطاوي‘‘ علی ’’الدر المختار‘‘، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۶۔و’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۶، ص۲۲۱ ۔ ۲۲۲، ج۲۳، ص۳۸۷۔۳۸۸۔
[175] … پ ۲۲، الأحزاب:۴۰۔
[176] … ’’تحذیر
الناس‘‘، خاتم النبییّن کا معنی، ص۴ ۔ ۵۔
[177] … عن أبي ہریرۃ رضي
اللّٰہ عنہ، أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:((إنّ مثلي ومثل
الأنبیاء من قبلي کمثل رجل بنی بیتاً فأحسنہ وأجملہ إلاّ موضع لبنۃ من زاویۃ
فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ہلاّ وضعت ہذہ اللبنۃ قال فأنا اللبنۃ
وأنا خاتم النبیین))۔
’’صحیح البخاري‘‘، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین، ج۲، ص۴۸۴، الحدیث: ۳۵۳۵۔
وفي روایۃ: عن
ثوبان قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((أنّہ سیکون في
أمتي ثلا ثون کذابون کلّھم یزعم أنّہ نبي وأنا خاتم النبیین لا نبي بعدي))۔
’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون، الحدیث: ۲۲۲۶، ج۴، ص۹۳۔
وفي روایۃ: عن
حذ یفۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((أنا
خاتم النبیین لا نبي بعدي))۔
’’المعجم الکبیر‘‘ للطبراني، الحدیث: ۳۰۲۶، ج۳، ص۱۷۰۔
وفي روایۃ: قال
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((یا فاطمۃ ونحن أہل بیت قد أعطانا
اللّٰہ سبع خصال لم یعط أحد قبلنا، ولا یعطی أحد بعدنا، أنا خاتم
النبیین۔۔۔ إلخ))۔
’’المعجم الکبیر‘‘ للطبراني، الحدیث: ۲۶۵۷، ج۳، ص۵۷۔
وفي روایۃ: عن
النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:(( أنا قائد المرسلین ولا فخر، وأنا
خاتم النبیین ولا فخر))۔
’’المعجم الأوسط‘‘، للطبراني، ج۱، ص۶۳، الحدیث: ۱۷۰۔
؎ [178] … پہلے تو بالذات کا پردہ رکھا تھا پھر کھیل
کھیلا کہ اسے مقامِ مدح میں ذکر کرنا کسی طرح صحیح نہیں تو ثابت ہوا کہ
وہ اصلاً کوئی فضیلت نہیں ۔ ۱۲ منہ
[179] … ’’تحذیر
الناس‘‘، خاتم النبیین کا معنی، ص۶:
[180] … ’’تحذیر
الناس‘‘، خاتم النبیین ہونے کا حقیقی مفہوم۔۔۔ إلخ، ص۱۸:
[181] … ہم زمانہ۔
[182] … ’’تحذیر
الناس‘‘، روایت حضرت عبد اﷲ ابن عباس کی تحقیق، ص۳۴:
[183] … ناسمجھ بچہ ۔
[184] … ممکن ہے کہ نا دان بچہ
غلطی سے تیر کو نشانہ پر مارے۔
[185] … حق ظاہر ہونے کے بعد۔
[186] … ’’تحذیر
الناس‘‘، روایت حضرت عبد اﷲ ابن عباس کی تحقیق، ص۳۵:
[187] … اس کتاب کا پورا نام ’’حُسام الحرمَین علی منحر الکفر والمَین‘‘ہے
جس میں بدمذہبوں کی کفریہ عبارات کے رد میں اعلی حضرت کے لکھے گئے
ایک فتویٰ پر علمائے حرمَین شریفَین کی تقاریظ وتصدیقات ہیں ، ا س کتاب کا
مطالعہ ہر مسلمان کیلئے مفید ہے۔
[188] … ’’تحذیر الناس‘‘، تفسیر
بالرائے کا مفہوم ص ۴۵۔
[189] … ’’تحذیر
الناس‘‘، نبوّت کمالات علمی میں سے ہے، ص۷:
[190] … ’’تحذیر
الناس‘‘، آنحضرت صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم کے
ساتھ نبوّت وصف ذاتی ہے، ص۹:
[191] … اعلی حضرت عظیم المرتبت
مولاناشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں : ’’باجماع
مسلمین کسی غیر خدا کو قدیم ماننے والا قطعا کافر
ہے‘‘۔ ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱۴، ص۲۶۶:
اسی طرح ایک اور مقام
پر نقل فرماتے ہیں کہ: ’’آئمہ دین فرماتے ہیں :’’جو کسی غیر خدا
کو ازلی کہے باجماع مسلمین کافر ہے‘‘۔’’ شفا‘‘ و’’نسیم‘‘
میں فرمایا: (من اعترف بإلٰہیۃ اللّٰہ تعالی ووحدانیتہ لکنّہ اعتقد
قدیماً غیرہ (أي: غیر ذاتہ وصفاتہ، إشارۃ إلی مذہب إلیہ الفلاسِفۃ
من قِدِم العالَمِ والعقول) أو صانعاً للعالَم سواہ (کالفلاسفۃ الذین
یقولون: إنّ الواحد لا یصدر عنہ إلاّ واحد) فذلک کلّہ کفر (ومعتقدہ
کافر بإجماع المسلمین، کالإلٰہین من الفلاسفۃ
والطبائعین)اھ ملخصاً۔ یعنی: جس نے اللہ تعالی کی الوہیت
ووحدانیت کا اقرار کیا لیکن اللہ تعالی کے غیر کے قدیم ہونے کا
اعتقاد رکھا (یعنی اللہ تعالی کی ذات وصفات کے علاوہ ، یہ فلاسفہ
کے مذہب یعنی عالَم وعقول کے قدیم ہونے کی طرف اشارہ
ہے) یا اللہ تعالی کے سوا کسی کو صانع عالَم مانا (جیسے
فلاسفہ جو کہ کہتے ہیں واحد سے نہیں صادر ہوتا ہے مگر واحد) تو یہ سب
کفر ہے ، (اور اس کے معتقد کے کافر ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے جیسے فلاسفہ
کا فرقۂ الہیہ اور فرقۂ طبائعیہ) اھ، تلخیص (ت) ۔ ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۲۷، ص۱۳۱۔
انظر
للتفصیل’’ الکوکبۃ الشہابیۃ‘‘ ج ۱۵، ص۱۶۷، و’’ سل السیوف‘‘ ج ۱۵، ص۲۳۹ في’’الفتاوی الرضویۃ‘‘۔
[192] … عظمت و شان گھٹانا۔
[193] … ’’براھین قاطعہ‘‘ بجوا ب ’’أنوار ساطعہ‘‘، مسئلہ علم غیب، ص۵۵:
[194] … ’’براھین قاطعہ‘‘ بجواب ’’أنوار ساطعہ‘‘، مسئلہ علم غیب، ص۵۵:
[195] … ’’حفظ الإیمان‘ ‘، جواب سؤال سوم، ص۱۳:
[196] … یعنی: انبیاء واولیاء کی
روحوں سے مدد طلب کرنا۔
[197] … کنہیا ہندؤں کے ایک
اوتار سِر ی کر شن جی کا لقب ہے۔(’’فیروز اللغات‘‘، ص۱۰۹۵)۔ہندو لوگ ہر سال وقت
ِمعیّن پر اُس کی پیدائش کا ڈرامہ کرتے ہیں ۔
[198] … یعنی تماشا ۔
[199] … بُری حرکت.
[200] … ملامت کے لائق۔
[201] … ’’براھین قاطعہ‘‘، نقل
فتوی رشید احمد گنگوہی ۔۔۔ إلخ، ص۱۵۲۔
[202] … في’’الفتاوی الہندیۃ‘‘، الباب التاسع، أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۷۱: (رجل
قال: قیاس أبيحنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی حق نیست یکفرکذا في ’’التتارخانیۃ‘‘)۔ ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، کتاب السیر، ج۱۴، ص۲۹۲۔
[203] … ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، کتاب السیر، ج۱۴، ص۲۹۰۔
[204] … ’’الفتاوی
الرضویۃ‘‘، ج۱۱، ص۴۰۴، ج۲۹، ص۳۹۲۔
[205] … ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۶، ص۷۰۳ ۔ ۷۰۴۔
[206] … في’’المرقاۃ‘‘، کتاب الإیمان، ج۱، ص۳۶۸: (قال
الشافعي رحمہ اللّٰہ: (ما أحدث مما یخالف الکتاب أو السنۃ أو الأثر أو
الإجماع فہو ضلالۃ، وما أحدث من الخیر مما لا یخالف شیئاً من ذلک فلیس
بمذموم)۔
[207] … في’’المرقاۃ‘‘، کتاب الإیمان، ج۱، ص۳۶۸: (قال
الشیخ عز الدین بن عبد السلام في آخر کتاب القواعد: البدعۃ إمّا واجبۃ کتعلم
النحو لفہم کلام اللّٰہ ورسولہ، وکتدوین أصول الفقہ والکلام في الجرح
والتعدیل، وإمّا محرمۃ کمذہب الجبریۃ والقدریۃ والمرجئۃ والمجسمۃ، والرد
علی ہؤلاء من البدع الواجبۃ؛ لأنّ حفظ الشریعۃ من ہذہ البدع فرض
کفایۃ، وإمّا مندوبۃ کإحداث الربط والمدارس، وکلّ إحسان لم یعہد في
الصدر الأوّل وکالتراویح أي: بالجماعۃ العامۃ والکلام في دقائق دقائق
الصوفیۃ، وإمّا مکروہۃ کزخرفۃ المساجد وتزویق المصاحف یعني عند
الشافعیۃ، وأمّا عند الحنفیۃ فمباح، والتوسع في لذائذ المآکل
والمشارب والمساکن وتوسیع الأکمام، وقد اختلف في کراہۃ بعض ذلک
أي: کما قدمنا،… وقال عمر رضي اللّٰہ عنہ في قیام
رمضان: نعمت البدعۃ۔ وروي عن ابن مسعود: ((ما رآہ المسلمون حسناً
فہو عند اللّٰہ حسن))، وفي حدیث مرفوع: ((لا یجتمع أمتي علی
الضلالۃ)) رواہ مسلم)، ملخصاً۔
[208] … عن عبد الرحمن بن
عبد القاري أنّہ قال: خرجت مع عمر بن الخطاب في رمضان إلی المسجد، فإذا
الناس أوزاع متفرقون یصلي الرجل لنفسہ، ویصلي الرجل فیصلي بصلاتہ
الرہط، فقال عمر: (واللّٰہ إني لأراني لو جمعت ہؤلاء علی قاریٔ واحد
لکان أمثل، فجمعہم علی أبي بن کعب، قال ثم خرجت معہ لیلۃ أخری والناس
یصلون بصلاۃ قارئہم فقال عمر: نعمت البدعۃ ہذہ، والتي تنامون عنہا أفضل
من التي تقومون یعني: آخر اللیل وکان الناس یقومون أولہ)۔
’’الموطأ‘‘ للإمام مالک، کتاب الصلاۃ في رمضان، باب ما جاء في قیام رمضان، الحدیث: ۲۵۵، ج۱، ص۱۲۰۔
و’’صحیح البخاري‘‘، کتاب صلاۃ التروایح، باب فضل من قام رمضان، الحدیث: ۲۰۱۰، ج۲، ص۱۵۷۔
[209] … في ’’الدر المختار‘‘، کتاب الصلاۃ، مبحث صلاۃ التراویح، (التروایح سنۃ مؤکدۃ
لمواظبۃ الخلفاء الراشدین للرجال والنساء إجماعاً)۔ ج۲، ص۵۹۶۔۵۹۷
اس مضون کے حوالاجات
پڑھنے کے لیئے اس لنک
https://tarzeraza.blogspot.com/2023/11/imaan-aur-kufr-ka-bayan-references.html
پر کلک کریں۔ مضمون
کو طوالت سے بچانے ک لیئے لنکس الگ سے پوسٹ کردیئے گئے ہیں۔
••┈•••○○❁⭕❁○○•••┈••
✍️ کَتـــَبَہُ:
مـرکزی میـڈیا سیـل
طَـرزِ رَضَـا نِیـٹوَرک
💬 https://chat.whatsapp.com/I17kpm09EQR0v1I7L7uTRG
📝 www.tarzeraza.blogspot.com
🌎 www.facebook.com/tarzeraza
°.✩┈∘┈✧❁✧┈∘┈✩.°
+923147484963💬
No comments:
Post a Comment