*مسلمانوں کی روحیں جمعرات کو گھروں کو آتی ہیں؟ حدیث سے ثابت ہے ؟*
اللہ پاک نے روح کو مرنے کے لیے پیدا نہیں کیا
ہے،جب انسان مرتا ہے تو اس کی روح اس کے جسم کے پنجرے سے آزاد ہو جاتی ہے،پھر سعید
روحیں تو علیین میں چلی جاتی ہیں اور وہ وہاں مقید نہیں ہوتی ہیں بلکہ یہ مقام ان
کے لیے دارِکرامت ہے، وہ جب چاہتی ہے بہ اذن الہی جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں، اور کفار
کی ارواحِ خبیثہ اگرچہ قفسِ عنصری سے رہائی پا جاتی ہیں مگر سجین میں مقید کر دی
جاتی ہیں۔
بعض روایات سے یہ ثابت ہے کہ ...
مرنے والوں کی روحیں جمعرات کو اپنے گھروں میں آتی ہیں اور اپنے عزیزوں کو پکار پکار کر صدقہ اور دعا کے لیے فریاد کرتی ہیں۔سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا
خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:”خاتمۃ المحدثین شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث
دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شرح مشکوٰۃ شریف باب زیارۃ القبور میں فرماتے ہیں:ترجمہ“میت
کے دنیا سے جانے کے بعد سات دن تک اس کی طرف سے صدقہ کرنا مستحب ہے،میت کی طرف سے
صدقہ اس کے لئے نفع بخش ہوتا ہے،اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں،اس بارے میں
صحیح حدیثیں وارد ہیں،خصوصا پانی صدقہ کرنے کے بارے میں اور بعض علماء کا قول ہے
کہ میت کو صرف صدقہ اور دعا کا ثواب پہنچتا ہے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ روح
شبِ جمعہ کو اپنے گھر آتی ہے اور انتظار کرتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں یا
نہیں۔
شیخ الاسلام ’’کشف الغطاء عما لزم للموتٰی علی
الأحیاء‘‘فصل ہشتم میں فرماتے ہیں:ترجمہ“غرائب اورخزانہ میں منقول ہے کہ مومنین کی
روحیں ہر شب جمعہ،روز عید،روز عاشوراء اور شب براءت کو اپنے گھر آکر باہر کھڑی
رہتی ہیں اور ہر روح غمناک بلند آواز سے ندا کرتی ہے کہ اے میرے گھر والو! اے میری
اولاد ! اے میرے قرابت دارو!صدقہ کر کے ہم پر مہربانی کرو“
(فتاوی رضویہ،جلد 9،ص 649 ،650،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ مزید ایک مقام پر
فرماتے ہیں:”خزانۃ الروایات میں ہے:”عن بعض العلماء المحققین أن الأرواح تتخلص لیلۃ
الجمعۃ و تنتش فجاؤا إلی مقابرھم ثم جاؤا فی بیوتھم“
بعض علماء محققین سے مروی ہے کہ روحیں شب جمعہ
چھٹی پاتی اور پھیلتی جاتی ہیں، پہلے اپنی قبروں پر آتی ہیں پھر اپنے گھروں میں۔
دستور القضاۃ مستند صاحب مائۃ مسائل میں فتاوی
امام نسفی سے ہے:”إن أرواح المؤمنین یأتون فی کل لیلۃ الجمعۃ و یوم الجمعۃ فیقومون
بفناء بیوتھم ثم ینادی کل واحد منھم بصوت حزین یا أھلی و یا أولادی و یا أقربائی
اعطفوا علینا بالصدقۃ و اذکرونا و لا تنسونا و ارحمونا فی غربتنا الخ“
بے شک مسلمانوں کی روحیں ہر جمعہ کی رات اور
جمعہ کے دن اپنے گھر آتی ہیں اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کردرد ناک آواز سے پکارتی
ہیں کہ اے میرے گھر والو!اے میرے بچو! اے میرے عزیزو! ہم پر صدقہ سے مہربانی
کرو،ہمیں یاد کرو،بھول نہ جاؤ۔ ہماری غریبی میں ہم پر ترس کھاؤ۔
نیز خزانۃ الروایات مستند صاحب مائۃ مسائل میں
ہے:”عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما إذا کان یوم عید أو یوم جمعۃ أو یوم
عاشوراء و لیلۃ النصف من الشعبان تأتی أرواح الأموات و یقومون علیٰ أبواب بیوتھم
فیقولون ھل من أحد یذکرنا ھل من أحد یترحم علینا ھل من أحد یذکر غربتنا الحدیث“
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے،جب
عید یا جمعہ یا عاشورے کا دن یا شب براءت ہوتی ہے،اموات کی روحیں آکر اپنے گھروں
کے دروازوں پر کھڑی ہوتی اور کہتی ہیں:ہے کوئی کہ ہمیں یاد کرے؟ہے کوئی کہ ہم پر
ترس کھائے؟ہے کوئی کہ ہماری غربت کی یاد دلائے؟“
(فتاوی رضویہ،جلد ،9ص،653 رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
(ماخوذ از فتاوی اہلسنت)
مزید تفصیل جاننے کے لیے “اتیان الارواح لدیارھم
بعد الرواح” کا مطالعہ فرمائیں۔
واللہ اعلم بالصواب
••┈•••○○❁⭕❁○○•••┈••
✍️ کَتـــَبَہُ:
مـرکزی میـڈیا سیـل
طَـرزِ رَضَـا نِیـٹوَرک
💬 https://chat.whatsapp.com/I17kpm09EQR0v1I7L7uTRG
📝 www.tarzeraza.blogspot.com
🌎 www.facebook.com/tarzeraza
°.✩┈∘┈✧❁✧┈∘┈✩.°
+923147484963💬
No comments:
Post a Comment