*امامت کا بیان:*
حصہ دوم
عقیدہ ۱۲: منہاجِ نبوت پر خلافتِ حقہ راشدہ تیس سال رہی، کہ سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے چھ مہینے پر ختم ہوگئی، پھر امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خلافتِ راشدہ ہوئی[48]اور آخر زمانہ میں حضرت سیّدنا امام مَہدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہوں گے۔[49]امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اوّل ملوکِ اسلام ہیں[50]، اسی کی طرف توراتِ مقدّس میں اشارہ ہے کہ:
’’مَوْلِدُہٗ
بِمَکَّۃَوَمُھَاجَرُہٗ بِطَیْبَۃَوَمُلْکُہٗ بِالشَّامِ۔‘‘[51]
’’وہ نبی آخر الزماں صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ کو ہجرت
فرمائے گا اور اس کی سلطنت شام میں ہوگی۔‘‘
تو امیرِ معاویہ کی
بادشاہی اگرچہ سلطنت ہے، مگر کس کی! محمد رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی سلطنت ہے۔ سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک فوجِ جرّار جاں نثار کے ساتھ عین میدان
میں بالقصد و بالاختیار ہتھیار رکھ دیے اور خلافت امیرِ معاویہ کو سپرد کر دی
اور ان کے ہاتھ پر بیعت فرمالی[52]اور اس صُلح کو حضور
ِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے پسند فرمایا اور اس
کی بشارت دی کہ امام حسن کی نسبت فرمایا:
إِنَّ ابْنِي ھٰذَا
سَیِّدٌ لَعَلَّ اللہَ أَنْ یُّصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ
مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔[53]
’’میرایہ بیٹا سیّد
ہے، میں امید فرماتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے باعث دو
بڑے گروہِ اسلام میں صلح کرا دے۔‘‘ تو امیرِ معاویہ پر مَعَاذَ
اﷲ فِسق وغیرہ کا طعن کرنے والا حقیقۃً حضرت امام حسن مجتبیٰ، بلکہ حضور
سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بلکہ حضرت عزّت
جلّ وعلا پر طعن کرتا ہے۔[54]
عقیدہ ۱۳: ام
المومنین صدیقہ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہَا قطعی جنتی اور یقینا آخرت
میں بھی محمد رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی
محبوبۂ عروس ہیں [55]، جو انھیں ایذا دیتا
ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کو ایذا دیتا
ہے[56]اور حضرت طلحہ و حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا تو
عشرۂ مبشَّرہ [57]سے ہیں[58]، ان صاحبوں سے بھی بمقابلہ امیر
المومنین مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم خطائے
اجتہادی واقع ہوئی، مگر اِن سب نے بالآخر رجوع فرمائی [59]، عرفِ شرع میں بغاوت
مطلقاً مقابلۂ امامِ برحق کو کہتے ہیں ، عناداً [60]ہو، خواہ
اجتہاداً [61]، ان حضرات پر بوجہ رجوع
اس کا اطلاق نہیں ہو سکتا، گروہِ امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ پر حسبِ اصطلاحِ شرع اِطلاق فئہ باغیہ [62] آیا ہے [63]، مگر اب کہ باغی بمعنی مُفسِد ومُعانِد
وسرکش ہو گیا اور دُشنام [64]سمجھا جاتا ہے، اب
کسی صحابی پر اس کا اِطلاق جائز نہیں ۔
عقیدہ ۱۴: ام
المؤمنین حضرت صدیقہ بنت الصدیق محبوبۂ محبوبِ ربِ العالمین جَلَّ وَ
عَلَا وَ صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمَا وَسَلَّم پر
معاذاﷲ تہمتِ ملعونۂ اِفک [65]سے اپنی ناپاک زبان
آلودہ کرنے والا، قطعاً یقینا کافر مرتد ہے[66]اور اس
کے سوا اور طعن کرنے والا رافضی، تبرّائی، بد دین، جہنمی۔
عقیدہ ۱۵: حضرات
حسنَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا یقینا اعلیٰ درجہ شہدائے کرام
سے ہیں ، ان میں کسی کی شہادت کا منکر گمراہ، بددین، خاسر ہے۔
عقیدہ ۱۶: یزید
پلید فاسق فاجر مرتکبِ کبائر تھا، معاذاﷲ اس سے اور ریحانۂ رسول اللہصَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَسیّدنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے کیا نسبت۔۔۔؟! آج کل جو بعض گمراہ کہتے ہیں کہ:
’’ہمیں ان کے معاملہ میں کیا دخل؟ ہمارے وہ بھی شہزادے، وہ بھی
شہزادے‘‘۔[67] ایسا بکنے والا
مردود، خارجی، ناصبی[68]مستحقِ جہنم
ہے۔ہاں ! یزید کو کافر کہنے اور اس پر لعنت کرنے میں علمائے اہلِ سنّت
کے تین قول ہیں اور ہمارے امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا
مسلک سُکُوت، یعنی ہم اسے فاسق فاجر کہنے کے سوا، نہ کافر کہیں ، نہ مسلمان۔[69]
عقیدہ ۱۷: اہلِ
بیتِ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُممقتدایانِ اہلِ سنّت ہیں ، جو
اِن سے محبت نہ رکھے، مردود وملعون خارجی ہے۔
عقیدہ ۱۸: اُم
المومنین خدیجۃ الکبریٰ، و ام المؤمنین عائشہ صدیقہ، و حضرت سیّدہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ قطعی جنتی ہیں[70] اور انھیں اور
بقیہ بَناتِ مکرّمات و ازواجِ مطہّرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو
تمام صحابیات پر فضیلت ہے۔[71]
عقیدہ ۱۹: اِن
کی طہارت کی گواہی قرآنِ عظیم نے دی۔ [72] (بہارِ شریعت،حصہ اول
،جلد۱،صفحہ۲۳۷تا۲۶۳)
[48] … في ’’النبراس‘‘:ص۳۰۸: (والخلافۃ
بعد النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ثلاثون سنۃ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: ((الخلافۃ
ثلاثون سنۃ…)) وقد استشہد علي رضي اللّٰہ عنہ علی رأس ثلاثین سنۃ أي: نہایتہا
من وفات رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہذا تقریب: والتحقیق أنّہ کان بعد علي
رضي اللّٰہ عنہ نحو ستۃ أشہر باقیۃ من ثلثین سنۃ وہي مدۃ خلافۃ الحسن بن علي رضي
اللّٰہ عنہما: وکان کمال ثلثین عند تسلیم الحسن الخلافۃ إلی معاویۃ: وعمر
بن عبد العزیز وہو خامس الخلفاء الراشدین صاحب الحدیث والاجتہاد والتقوی والعدل والکرامات
والمناقب الرفیعۃ): ملتقطاً۔
[49] … عن محمد بن
الحنفیۃ: قال: کنا عند علي رضي اللّٰہ عنہ: فسألہ رجل عن المہدي: فقال
علي رضي اللّٰہ عنہ: ((ہیہات: ثم عقد بیدہ سبعاً: فقال: ذاک یخرج
في آخر الزمان۔۔۔إلخ))۔
’’المستدرک‘‘للحاکم:کتاب
الفتن والملاحم:الحدیث:۸۷۰۲: ج۵: ص ۷۶۶۔۷۶۷۔
في’’منح الروض
الأزہر‘‘:ص۶۵:((الخلافۃ بعدي ثلاثون سنۃ ثم تصیر ملکاً عضوضاً)) ولا یشکل بأنّ
أہل الحل والعقد من الأمۃ قد کانوا متفقین علی خلافۃ الخلفاء العباسیۃ وبعض المروانیۃ
کعمر بن عبد العزیز: فإنّ المراد بالخلافۃ المذکورۃ في الحدیث الخلافۃ
الکاملۃ التي لا یشوبہا شيء من المخالفۃ ومیل عن المتابعۃ یکون ثلاثون سنۃ: وبعدہا
قد تکون وقد لا تکون: إذ قد ورد في حق المہدي أنّہ خلیفۃ رسول اللّٰہ صلی
اللّٰہ علیہ وسلم: والأظہر أنّ إطلاق الخلیفۃ علی الخلفاء العباسیۃ کان علی
المعاني اللغویۃ المجازیۃ العرفیۃ دون الحقیقۃ الشرعیۃ): ملتقطاً۔
[50] … في ’’منح
الروض الأزہر‘‘للقاریٔ:ص۶۸۔۶۹: (وأول ملوک المسلمین معاویۃ رضي اللّٰہ
عنہ)۔
[51] … ’’المستدرک‘‘:کتاب
تواریخ المتقدمین من الأنبیاءوالمرسلین:الحدیث: ۴۳۰۰: ج ۳: ص۵۲۶۔
و’’دلائل
النبوۃ‘‘للبیہقي:ج۶: ص۲۸۱: و’’مشکاۃالمصابیح‘‘:کتاب الفضائل:الحدیث: ۵۷۷۱: ج۳: ص۳۵۸۔
[52] … قال رسول اللّٰہ
صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّ ابني ہذا سید ولعل اللّٰہ أن یصلح بہ بین فئتین
عظیمتین من المسلمین))۔
’’صحیح
البخاري‘‘:کتاب الصلح:قولالنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم للحسن بن علي:الحدیث: ۲۷۰۴: ج۲: ص۲۱۴۔ و’’الجامع
الصغیر‘‘:الحدیث: ۲۱۶۷: ج۱: ص۱۳۲۔في ’’فیض القدیر‘‘:ج۲: ص۵۱۹: تحت
الحدیث: ((أن یصلح بہ) یعني: بسبب تکرمہ وعزلہ نفسہ عن الخلافۃ: وترکہا
کذلک لمعاویۃ (بین فئتین عظیمتین من المسلمین) وکان ذلک: فلما بویع
لہ بعد أبیہ وصار ہو الإمام الحق مدۃ ستۃ أشہر تکملۃ للثلاثین سنۃ التي أخبر المصطفی
صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنّہا مدۃ الخلافۃ وبعدہا یکون ملکاً عضوضاً ثم سار إلی معاویۃ بکتائب
کأمثال الجبال وبایعہ منہم أربعون ألفاً علی الموت: فلما تراء ی الجمعان
علم أنّہ لا یغلب أحدہما حتی یقتل الفریق الآخر فنزل لہ عن الخلافۃ لا لقلۃ ولا لذلۃ
بل رحمۃ للأمۃ۔۔۔ إلخ)۔وفي ’’منح الروض الأزہر‘‘للقاریٔ: ص۶۸۔۶۹: (أول
ملوک المسلمین معاویۃ رضي اللّٰہ عنہ وہو أفضلہم لکنّہ إنما صار إماماً حقاً لما
فوض إلیہ الحسن بن علي رضي اللّٰہ عنہما الخلا فۃ: فإنّ الحسن بایعہ أھل
العراق بعد موت أبیہ ثم بعد ستۃ أشہر فوض الأمر إلی معاویۃ رضي اللّٰہ
عنہ)۔
[53] … ’’صحیح
البخاري‘‘:کتاب الصلح:بابقول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم للحسن بن علي رضی اللّٰہ
عنھما: إنّ ابني ھذا۔۔۔إلخ:الحدیث: ۲۷۰۴: ج۲: ص۲۱۴۔
[54] … وفي ’’المعتمدالمستند‘‘:حاشیۃنمبر۳۱۹: ص۱۹۲: (في ’’الجامع
الصحیح‘‘: إنّ ابني ھذاسیدلعلّ اللّٰہ أن یصل حبہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین: وبہ
ظھر أنّ الطعن علی الأمیر معاویۃ رضي اللّٰہ تعالی عنہ طعن علی الإمام المجتبی
بل علی جدہ الکریم صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم: بل علی ربہ عزّوجل)۔
[55] … عن عائشۃ قالت: قال
لي رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّہ لیھون علي الموت: إني أریتک
زوجتي في الجنۃ))۔
’’المعجم
الکبیر‘‘للطبراني:الحدیث: ۹۸: ج۲۳: ص۳۹۔وحد ثتنا عائشۃ رضي اللّٰہ
عنھا أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذکر فاطمۃ رضي اللّٰہ عنھا: قالت: فتکلمت
أنا: فقال: ((أما ترضین أن تکوني زوجتي في الدنیا والآخرۃ؟)) قالت: بلی
واللّٰہ: قال: ((فأنت زوجتي في الدنیا
والآخرۃ))۔’’المستدرک‘‘للحاکم:فضائل عائشۃعن لسان ابن عباس:الحدیث: ۶۷۸۹: ج۵: ص۱۲۔
عن عمار قال: ((إنّ
عائشۃزوجۃالنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم في الجنۃ))۔’’المصنف‘‘لابن أبي شیبۃ:کتاب
الفضائل:باب ماذکرعائشۃرضي اللّٰہ عنہا: الحدیث: ۱۰: ج۷: ص ۵۲۹۔ ’’الفتاوی
الرضویۃ‘‘:ج۲۹: ص۳۷۶۔
[56] …((یا معشر المسلمین من
یعذرني من رجل قد بلغني عنہ أذاہ في أہلي۔۔۔ إلخ))
’’صحیح
البخاري‘‘:کتاب المغازي:باب حدیث الإفک:الحدیث: ۴۱۴۱: ج۳: ص۶۴۔
وفي روایۃ: حدثنا
ہشام عن أبیہ قال:… قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((یا أم
سلمۃ لا تؤذیني في عائشۃ فإنّہ واللّٰہ ما نزل علي الوحي وأنا في لحاف امرأۃ
منکنّ غیرہا)۔’’صحیح البخاري‘‘:کتاب فضائل أصحاب النبي:باب فضل عائشۃرضي اللّٰہ
عنہا:الحدیث: ۳۷۷۵: ج۲: ص۵۵۲۔
وفي ’’المرقاۃ‘‘: تحت
الحدیث: ۶۱۸۹: فقال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لہا: (((لا تؤذیني
في عائشۃ)) أي: في حقہا: وہو أبلغ مِن لا تؤذي عائشۃ لما یفید من أن
ما آذاہا فہو یؤذیہ)۔ ج۱۰: ص۵۶۱۔
[57] … وہ دس صحابہ
جنہیں اُن کی زندگی ہی میں جنت کی بشارت دے دی گئی تھی جن کے نام صفحہ
نمبر ۲۵۰پر گزرے۔
[58] … عن عبد الرحمٰن بن
عوف قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((…وطلحۃ في الجنۃ
والزبیر في الجنۃ…))۔
’’سنن
الترمذي‘‘:أبواب المناقب:الحدیث: ۳۷۶۸: ج۵: ص۴۱۶۔
[59] … (شہد الزبیر الجمل
مقاتلاً لعلي: فناداہ علي ودعاہ: فانفرد بہ وقال لہ: أتذکر إذ
کنت أنا وأنت مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: فنظر إليّ وضحک وضحکتُ فقلت: أنت
لا یدع ابن أبي طالب زہوہ فقال: لیس بمزہ: ولتقاتلنّہ وأنت لہ ظالم: فذکر
الزبیر ذلک: فانصرف عن القتال: فنزل بوادي السباع: وقام یصلي فأتاہ
ابن جرموز فقتلہ: وجاء بسیفہ إلی علي فقال: إنّ ہذا سیف طالما فرّج
الکرب عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ثم قال: بشّر قاتل ابن صفیۃ
بالنار)۔
’’أسدالغابۃفي
معرفۃالصحابۃ‘‘:ج۲: ص۲۹۷۔
وفیہ: (قتل طلحۃ
یوم الجمل: وکان شہد ذلک الیوم محارباً لعلي بن أبي طالب رضي اللّٰہ عنہما: فزعم
بعض أہل العلم أنّ علیاً دعاہ: فذکّرہ أشیاء من سوابقہ علی ما قال للزبیر: فرجع
عن قتالہ: واعتزل في بعض الصفوف: فرمي بسہم في رجلہ: وقیل: إنّ
السہم أصاب ثغرۃنحرہ فمات:رماہ مروان بن الحکم)۔’’أسدالغابۃفي معرفۃالصحابۃ‘‘:ج۳: ص۸۵۔
ان روایتوں سے
پتہ چلا کہ حضرت زبیر اور حضرت طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عنہما دونوں سے
خطاء اجتہادی واقع ہوئی اور یہ حضرت علیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عنہ کے
مدمقابل ہوئے لیکن یاد دلانے پر الگ ہوگئے اور جنگ نہیں لڑی۔
[60] … دشمنی کے طور پر ۔
[61] … في ’’الدرالمختار‘‘:کتاب
الجھاد:باب البغاۃ:ج۶: ص۳۹۸۔۳۹۹ : (البغي شرعاً: ھم الخارجون عن
الإمام الحقّ بغیر حقّ فلو بحقّ فلیسوا ببغاۃ)۔
[62] … شریعت کی اصطلاح
میں اسے باغی گروہ کہا گیاہے ۔
[63] … في ’’صحیح
البخاري‘‘: عن عکرمۃ: قال لي ابن عباس ولابنہ علي: انطلقا إلی أبي
سعید:فاسمعامن حدیثہ:فانطلقنافإذاہوفي حائط یصلحہ: فأخذ رداء ہ فاحتبی: ثم
أنشأ یحدثنا حتی أتی ذکر بناء المسجد فقال: کنا نحمل لبنۃ لبنۃ: وعمار لبنتین
لبنتین فرآہ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: فینفض التراب عنہ ویقول: ((ویح
عمار تقتلہ الفئۃ الباغیۃ یدعوہم إلی الجنۃ ویدعونہ إلی النار)) قال: یقول
عمار: أعوذ باللّٰہ من الفتن۔
’’صحیح
البخاري‘‘:کتاب الصلاۃ:باب التعاون في بناءالمسجد:الحدیث: ۴۴۷: ج۱: ص۱۷۱۔
[64] … گالی
[65] … آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عنہا کی
پاکدامنی پر بہتان۔.
[66] … في ’’الفتاوی
الہندیۃ‘‘:الباب التاسع في أحکام المرتدین: (ولوقذف عائشۃرضي اللّٰہ
عنھابالزنی کفر باللّٰہ ولو قذف سائر نسوۃ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا یکفر
ویستحق اللعنۃ)۔’’الفتاوی الہندیۃ‘‘:الباب التاسع في أحکام المرتدین:ج۲: ص۲۶۴
و’’البحرالرائق‘‘:کتاب
السیر:باب أحکامالمرتدین:ج۵: ص۲۰۴۔
وفي ’’منح الروض
الأزہر‘‘للقاریٔ:ص۷۲: (سب الصحابۃ والطعن فیھم إن کان مما یخالف الأدلۃ
القطعیۃ فکفر کقذف عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا وإلاّ فبدعۃ وفسق)۔ ’’الفتاوی
الرضویۃ‘‘:ج۱۴: ص۲۴۶۔
[67] … لم نعثر علیہ۔
[68] … وہ فرقہ جو اپنے
سینوں میں حضرت علی اور حسن و حسینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عنہم سے
بغض و کینہ رکھتے ہیں ۔
[69] … اعلی حضرت امام اہلسنت
مجدد دین وملت مولاناشاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ
الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں :’’ یزید پلید علیہ ما یستحقہ من
العزیز المجید قطعا یقینا باجماع اہلسنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا اس قدر
پر ائمہ اہل سنت کا اطباق واتفاق ہے، صرف اس کی تکفیر ولعن میں اختلاف فرمایا۔
امام احمد بن حنبلرَضِیَ اللہتَعَالٰی عنہ اور ان کے اتباع وموافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں اور
اس آیۂ کریمہ سے اس پر سند لاتے ہیں :{ فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ
تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا
اَرْحَامَكُمْ(۲۲)اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ
اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳)} کیا قریب ہے کہ اگر والی مُلک ہو تو زمین
میں فساد کرو اور اپنے نسبی رشتہ کاٹ دو، یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے
لعنت فرمائی تو انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔
شک نہیں کہ یزید
نے والی مُلک ہوکر زمین میں فساد پھیلایا ، حرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ
وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں ، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے،
ان کی لید اور پیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجد نبی صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَبے اذان ونماز رہی ، مکہ ومدینہ وحجاز
میں ہزاروں صحابہ وتابعین بے گناہ شہید کئے، کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے،
غلاف شریف پھاڑ ا اور جلادیا، مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شبانہ روز
اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے
جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمرائیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح
کیا، مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے گود کے پالے ہوئے تن نازنین پر
بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوان مبارک چور ہوگئے ، سر انور کہ
محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکا بوسہ گاہ تھاکاٹ کر
نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا، حرم محترم مخدرات مشکوئے رسالت قید کئے
گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے ، اس سے بڑھ کر قطع
رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا ، ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق
وفجور نہ جانے، قرآن عظیم میں صراحۃ اس پر { لَعَنَهُمُ اللّٰهُ }
(ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ت) فرمایا، لہذا امام احمد اور ان کے موافقین ان
پر لعنت فرماتے ہیں اور ہمارے امام اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عنہ نے
لعن وتکفیر سے احتیاطا سکوت فرمایا کہ اس سے فسق وفجور متواتر ہیں کفر متواتر
نہیں اور بحال احتمال نسبت ِکبیرہ بھی جائز نہیں نہ کہ تکفیر، اور امثال
وعیدات مشروط بعدم ِتوبہ ہیں لقولہ تعالی { فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ
غَیًّاۙ(۵۹) اِلَّا مَنْ تَابَ }( تو عنقریب دوزخ میں غی کا جنگل
پائیں گے مگر جو تائب ہوئے۔ت) اور توبہ تادم ِ غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم
پر جزم نہیں اور یہی احوط واسلم ہے، مگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور
امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریات مذہب اہل سنت کے خلاف ہے اور ضلالت وبدمذہبی
صاف ہے ،بلکہ انصافاً یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبت ِ سید
عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکا شمّہ ہو، { وَ
سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷)}(اب
جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)، شک نہیں کہ
اس کا قائل ناصبی مردود اور اہل سنت کا عدو وعنود ہے‘‘۔
’’الفتاوی
الرضویۃ‘‘:کتابالسیر:ج۱۴: ص۵۹۱۔۵۹۳۔
احکام شریعت
میں فرماتے ہیں : ’’یزید پلید کے بارے میں ائمہ اہل سنت کے تین قول
ہیں امام احمد وغیرہ اکابر اسے کافر جانتے ہیں تو ہرگز بخشش نہ ہوگی اور
امام غزالی وغیرہ مسلمان کہتے ہیں تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو بالآخر بخشش
ضرور ہے اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر
لہذا یہاں بھی سکوت کریں گے۔ واللّہ تعالی اعلم۔’’احکام
شریعت‘‘:ص۱۶۵۔
انظر للتفصیل: ’’المسامرۃ‘‘:ماجری
بین علي ومعاویۃرضي اللّٰہ عنہما:ص۳۱۷۔۳۱۸: و’’النبراس‘‘:ص۳۳۰۔۳۳۲: و’’منح الروض الأزہر‘‘للقاریٔ:ص۷۱۔۷۳: ’’شرح
العقائدالنسفیۃ‘‘:ص۱۶۳۔۱۶۴: و’’فضائل دعا‘‘: ص۱۹۴۔۱۹۶۔
[70] … عن ہند بن أبي ہالۃ
رضي اللّٰہ تعالی عنہ قال: قال رسولاللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّاللّٰہ
أبیلي أن أتزوَّج أوأُزوِّج إلاّأہلالجنۃ))۔’’الجامع الصغیر‘‘:ص۱۰۴: الحدیث: ۱۶۶۰۔ قال
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((سألت ربي أن لا أزوج إلاّ من أہل
الجنۃ ولا أتزوج إلاّ من أہل الجنۃ)۔’’الجامعالصغیر‘‘:ص۲۸۳: الحدیث: ۴۶۰۷۔
عن عائشۃ قالت: ((بشر
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خدیجۃ بنت خویلد ببیت في الجنۃ))۔
’’صحیح مسلم‘‘:کتاب
فضائل الصحابۃ:فضائل خدیجۃ أم المؤمنین: الحدیث: ۲۴۳۴: ص۱۳۲۳۔ عن
أبي زرعۃ قال: سمعت أبا ہریرۃ قال: ((أتی جبریل النبي صلی اللّٰہ
علیہ وسلم فقال: یا رسول اللّٰہ! ہذہ خدیجۃ قد أتتک معہا إناء فیہ إدام أو
طعام أو شراب: فإذا ہي أتتک فاقرأ علیہا السلام من ربہا عز وجل ومنّي وبشّرہا
ببیت في الجنۃ من قصب لا صخب فیہ ولا نصب))۔’’صحیح مسلم‘‘:کتاب فضائل
الصحابۃ:فضائل خدیجۃأم المؤمنین:الحدیث: ۲۴۳۲: ص۱۳۲۲۔
عن عائشۃ قالت: قال
لي رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّہ لیھون علي الموت: إني أریتک
زوجتي في الجنۃ))۔
’’المعجم الکبیر‘‘للطبراني:الحدیث:۹۸: ج۲۳: ص۳۹۔ عن
عمار قال: ((إنّ عائشۃزوجۃالنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم في
الجنۃ))۔’’المصنف‘‘لابن أبي شیبۃ:کتاب الفضائل:باب ماذکرعائشۃرضي اللّٰہ
عنہا:الحدیث: ۱۰: ج۷: ص ۵۲۹۔.
وحدثتنا عائشۃ رضي
اللّٰہ عنھا أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذکر فاطمۃ رضي اللّٰہ عنھا: قالت: فتکلمت
أنا: فقال: أما ترضین أن تکوني زوجتي في الد نیا والآخرۃ؟ قالت: بلی
واللّٰہ: قال: فأنت زوجتي في الد نیا والآخرۃ))۔
’’المستدرک‘‘للحاکم:فضائل
عائشۃعن لسانابن عباس:الحدیث: ۶۷۸۹: ج۵: ص۱۲۔قال النبي صلی اللّٰہ علیہ
وسلم: ((فاطمۃ سیدۃ نساء أہل الجنۃ))۔’’صحیح البخاري‘‘:کتاب فضائل أصحاب
النبي صلی اللہ علیہ وسلم:باب مناقب فاطمۃرضي اللّٰہ عنہا:ج۲: ص۵۵۰۔انظر
للتفصیل: عقیدہ نمبر (۵)۔
[71] … في ’’کشف
الغمّۃ‘‘:ج۲: ص۵۵: (وزوجاتہ وبناتہ أفضل نساء العالمین)۔
[72] … { اِنَّمَا
یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ
یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳)} پ۲۲: الأحزاب: ۳۳۔ في ’’تفسیرالخازن‘‘:ج۳: ص۴۹۹: تحت
ہذہ الآیۃ: ({اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ
الرِّجْسَ }أي: الإثم الذي نہی اللّٰہ النساء عنہ: وقال ابن عباس: یعني
عمل الشیطان وما لیس للّٰہ فیہ رضا: وقیل: الرجس الشک وقیل: السو ء)۔ في ’’التفسیرالکبیر‘‘:ج۹: ص۱۶۸: تحت
ہذہ الآیۃ: (واختلفت الأقوال في أہل البیت: والأولی أن یقال: ہم
أولادہ وأزواجہ والحسن والحسین منہم وعلي منہم؛ لأنّہ کان من أہل بیتہ بسبب معاشرتہ
ببنت النبي علیہ السلام وملازمتہ للنبي)۔
••┈•••○○❁⭕❁○○•••┈••
✍️ کَتـــَبَہُ:
مـرکزی میـڈیا سیـل
طَـرزِ رَضَـا نِیـٹوَرک
💬 https://chat.whatsapp.com/I17kpm09EQR0v1I7L7uTRG
📝 www.tarzeraza.blogspot.com
🌎 www.facebook.com/tarzeraza
°.✩┈∘┈✧❁✧┈∘┈✩.°
+923147484963💬
No comments:
Post a Comment