Monday, November 6, 2023

Hashar Ka Bayan | حشر کا بیان

 *حشر کا بیان*


بیشک زمین و آسمان اور جن و اِنس و مَلک سب ایک دن فنا ہونے والے ہیں ، صرف ایک اﷲ تَعَالٰی کے لیے ہمیشگی و بقا ہے۔ [1] دنیا کے فنا ہونے سے پہلے چند نشانیاں ظاہر ہوں گی۔

۱ تین خسف ہوں گے یعنی آدمی زمین میں دھنس جائیں گے، ایک مشرق میں ، دوسرا مغرب میں ، تیسرا جزیرۂ عرب میں۔ [2]

۲ عِلم اُٹھ جائے گا یعنی علما اُٹھالیے جائیں گے، یہ مطلب نہیں کہ علما تو باقی رہیں اور اُن کے دلوں سے علم محو کردیا جائے۔ [3]

۳ جہل کی کثرت ہوگی۔ [4]

۴ زنا کی زیادتی ہوگی[5] اور اِس بے حیائی کے ساتھ زنا ہوگا، جیسے گدھے جُفتی کھاتے ہیں ، بڑے چھوٹے کسی کا لحاظ پاس نہ ہوگا۔ [6]

۵ مرد کم ہوں گے اور عورتیں زیادہ، یہاں تک کہ ایک مرد کی سرپرستی میں پچاس عورتیں ہوں گی۔ [7]

۶ علاوہ اُس بڑے دجّال کے اور تیس دجّال ہوں گے، کہ وہ سب دعویٔ نبوت کریں گے، حالانکہ ... 

نبوت ختم ہوچکی۔ [8] جن میں بعض گزرچکے، جیسے مسیلمہ کذّاب، طلیحہ بن خوَیلد، اسود عَنسی، سجاح عورت کہ بعد کو اسلام لے آئی[9]،غلام احمد قادیانی[10] وغیرہم۔ اور جو باقی ہیں ، ضرور ہوں گے۔

۷ مال کی کثرت ہوگی[11]، نہر فرات اپنے خزانے کھول دے گی کہ وہ سونے کے پہاڑ ہوں گے۔ [12]

۸ ملک ِعرب میں کھیتی اور باغ اور نہریں ہوجائیں گی۔ [13]

۹ دین پر قائم رہنا اتنا دشوار ہوگا جیسے مُٹھی میں انگارا لینا [14]، یہاں تک کہ آدمی قبرستان میں جاکر تمنا کرے گاکہ کاش! میں اِس قبر میں ہوتا۔ [15]

۱۰ وقت میں برکت نہ ہوگی، یہاں تک کہ سال مثل مہینے کے اور مہینہ مثل ہفتہ کے اور ہفتہ مثل دن کے اور دن ایسا ہوجائے گا جیسے کسی چیز کو آگ لگی اور جلد بھڑک کر ختم ہوگئی[16]، یعنی بہت جلد جلد وقت گزرے گا۔

۱۱ زکوٰۃ دینا لوگوں پر گراں ہوگا کہ اس کو تاوان سمجھیں گے۔ [17]

۱۲ علمِ دین پڑھیں گے، مگر دین کے لیے نہیں ۔ [18]

۱۳ مرد اپنی عورت کا مُطِیع ہوگا۔[19]

۱۴ ماں باپ کی نافرمانی کرے گا۔ [20]

۱۵ اپنے احباب سے میل جول رکھے گا اور باپ سے جدائی۔ [21]

۱۶ مسجد میں لوگ چِلّائیں گے۔ [22]

۱۷ گانے باجے کی کثرت ہوگی۔ [23]

۱۸ اَگلوں پر لوگ لعنت کریں گے، ان کو بُرا کہیں گے۔ [24]

۱۹ درندے، جانور، آدمی سے کلام کریں گے، کوڑے کی پُھنچی[25]، جُوتے کا تَسْمہ کلام کرے گا، اُس کے بازار جانے کے بعد جو کچھ گھر میں ہوا بتائے گا، بلکہ خود انسان کی ران اُسے خبر دے گی۔[26]

۲۰ ذَلیل لوگ جن کو تَن کا کپڑا، پاؤں کی جوتیاں نصیب نہ تھیں ، بڑے بڑے محلوں میں فخر کریں گے۔ [27]

۲۱ دجّال کا ظاہر ہونا کہ چا۴۰لیس دن میں حرمَیْنِ طیّبین کے سوا تمام روئے زمین کا گشت کرے گا۔ [28] چالیس دن میں ، پہلا دن سال بھر کے برابر ہوگا اور دوسرا دن مہینے بھر کے برابر اور تیسرا دن ہفتہ کے برابر اور باقی دن چوبیس چوبیس گھنٹے کے ہوں گے اور وہ بہت تیزی کے ساتھ سیر کرے گا، جیسے بادل جس کو ہَوا اڑاتی ہو۔ [29] اُس کا فتنہ بہت شدید ہوگا [30]، ایک باغ اور ایک آگ اُس کے ہمراہ ہوں گی، جن کا نام جنت و دوزخ رکھے گا، جہاں جائے گا یہ بھی جائیں گی، مگر وہ جو دیکھنے میں جنت معلوم ہوگی وہ حقیقۃً آگ ہوگی اور جو جہنم دکھائی دے گا، وہ آرام کی جگہ ہوگی[31] اور وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا [32]، جو اُس پر ایمان لائے گا اُسے اپنی جنت میں ڈالے گا اور جو انکار کرے گا اُسے جہنم میں داخل کرے گا [33]، مُردے جِلائے [34] گا [35]۔ زمین کو حکم دے گا وہ سبزے اُگائے گی، آسمان سے پانی برسائے گا اور اُن لوگوں کے جانور لمبے چوڑے خوب تیار اور دودھ والے ہوجائیں گے اور ویرانے میں جائے گا تو وہاں کے دفینے شہد کی مکھیوں کی طرح دَل کے دَل [36] اس کے ہمراہ ہوجائیں گے۔[37] اِسی قسم کے بہت سے شُعبدے [38] دکھائے گا اور حقیقت میں یہ سب جادو کے کرشمے ہوں گے اور شیاطین کے تماشے، جن کو واقعیت سے کچھ تعلق نہیں ، اِسی لیے اُس کے وہاں سے جاتے ہی لوگوں کے پاس کچھ نہ رہے گا۔ حرمین شریفین میں جب جانا چاہے گا ملائکہ اس کا منہ پھیردیں گے۔ البتہ مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے کہ وہاں جو لوگ بظاہر مسلمان بنے ہوں گے اور دل میں کافر ہوں گے اور وہ جو علمِ الٰہی میں دجّال پر ایمان لاکر کافر ہونے والے ہیں ، اُن زلزلوں کے خوف سے شہر سے باہر بھاگیں گے اور اُس کے فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ [39]

دجّال کے ساتھ یہود کی فوجیں ہوں گی [40]، اُس کی پیشانی پر لکھا ہوگا: ’’ک، ف، ر‘‘ یعنی کافر، جس کو ہر مسلمان پڑھے گا [41] اور کافر کو نظر نہ آئے گا۔[42] جب وہ ساری دنیا میں پھِر پھِرا کر ملکِ شام کو جائے گا، اُس وقت حضرت مسیح عَلَیْہِ السَّلَام [43] آسمان سے جامع مسجد دمشق کے شَرقی مینارہ پر نُزُول فرمائیں گے[44]، صبح کا وقت ہوگا، نمازِ فجر کے لیے اِقامت ہو چکی ہوگی، حضرت امام مَہدی کو کہ اُس جماعت میں موجود ہوں گے امامت کا حکم دیں گے، حضرت امام مَہدی رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ نماز پڑھائیں گے، وہ لعین دجّال حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی سانس کی خوشبو سے پگھلنا شروع ہوگا، جیسے پانی میں نمک گھلتا ہے اور اُن کی سانس کی خوشبو حدّ ِ بصر[45] تک پہنچے گی، وہ بھاگے گا، یہ تعاقب فرمائیں گے اور اُس کی پیٹھ میں نیزہ ماریں گے، اُس سے وہ جہنم واصل ہوگا۔ [46]

۲۲ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا آسمان سے نُزُوْل فرمانا:

اِس کی مختصر کیفیت اوپر معلوم ہو چکی، آپ کے زمانہ میں مال کی کثرت ہوگی، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو مال دے گا تو وہ قبول نہ کرے گا[47] ، نیز اُس زمانہ میں عداوت و بغض و حسد آپس میں بالکل نہ ہو گا۔ [48] عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام صَلِیْب [49] توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے [50]، تمام اہلِ کتاب جو قتل سے بچیں گے سب اُن پر ایمان لائیں گے۔ تمام جہان میں دین ایک دینِ اسلام ہوگا اور مذہب ایک مذہبِ اہلِ سنّت۔ [51]

بچے سانپ سے کھیلیں گے اور شیر اور بکری ایک ساتھ چَریں گے[52]، چالیس برس تک اِقامت فرمائیں گے، نکاح کریں گے، اولاد بھی ہوگی، بعدِ وفات روضۂ انورمیں دفن ہونگے۔ [53]

۲۳ حضرت امام مَہدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاظاہر ہونا:

اِس کا اِجمالی واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں جب سب جگہ کفر کا تسلط ہوگا اُس وقت تمام اَبدال[54] بلکہ تمام اولیا سب جگہ سے سِمٹ کر حرمین شریفین کو ہجرت کر جائیں گے، صرف وہیں اسلام ہو گا اور ساری زمین کفرستان ہو جائے گی۔ رمضان شریف کا مہینہ ہوگا، اَبدال طوافِ کعبہ میں مصروف ہوں گے اور حضرت امام مَہدی بھی وہاں ہوں گے، اولیاء اُنھیں پہچانیں گے، اُن سے درخواستِ بیعت کریں گے، وہ انکار کریں گے۔

دفعۃ غیب سے ایک آواز آئے گی:

ھٰذَا خَلِیْفَۃُ اللہِ الْمَھْدِيُّ فَاسْمَعُوْا لَـہٗ وَأَطِیْعُوْہُ۔

’’یہ اﷲ عَزَّوَجَل کا خلیفہ مہدی ہے، اس کی بات سُنو اور اس کا حکم مانو۔‘‘

تمام لوگ اُن کے دست ِمبارک پر بیعت کریں گے۔ وہاں سے سب کو اپنے ہمراہ لے کر ملکِ شام کو تشریف لے جائیں گے۔ [55]

بعد قتلِ دجّال حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو حکمِ الٰہی ہوگا کہ مسلمانوں کو کوہِ طور پر لے جاؤ، اس لیے کہ کچھ ایسے لوگ ظاہر کیے جائیں گے، جن سے لڑنے کی کسی کوطاقت نہیں ۔

۲۴ یاجُوج و ماجُوج کا خروج[56] :

مسلمانوں کے کوہِ طور پر جانے کے بعد یاجُوج و ماجُوج ظاہر ہوں گے، یہ اس قدر کثیر ہوں گے کہ ان کی پہلی جماعت بُحَیْرَۂ طَبَرِیَّہ پر جس کا طول دس میل ہو گا [57] جب گزرے گی، اُس کا پانی پی کر اس طرح سُکھادے گی کہ دوسری جماعت بعد والی جب آئے گی تو کہے گی: کہ یہاں کبھی پانی تھا!۔

پھر دنیا میں فساد و قتل و غارت سے جب فرصت پائیں گے تو کہیں گے کہ زمین والوں کو تو قتل کرلیا، آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں ، یہ کہہ کر اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے، خداکی قدرت کہ اُن کے تیر اوپر سے خون آلودہ گریں گے۔

یہ اپنی اِنہیں حرکتوں میں مشغول ہوں گے اور وہاں پہاڑ پر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام مع اپنے ساتھیوں کے محصور ہوں گے، یہاں تک کہ اُن کے نزدیک گائے کے سر کی وہ وقعت ہوگی جو آج تمہارے نزدیک ۱۰۰سواشرفیوں کی نہیں ، اُس وقت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام مع اپنے ہمراہیوں کے دُعا فرمائیں گے، اﷲ تَعَالٰی اُن کی گردنوں میں ایک قسم کے کیڑے پیدا کر دے گا کہ ایک دَم میں وہ سب کے سب مر جائیں گے، اُن کے مرنے کے بعد حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پہاڑ سے اُتریں گے، دیکھیں گے کہ تمام زمین اُن کی لاشوں اور بدبُو سے بھری پڑی ہے، ایک بالشت بھی زمین خالی نہیں ۔

اُس وقت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام مع ہمراہیوں کے پھر دُعا کریں گے، اﷲ تَعَالٰی ایک قسم کے پرند بھیجے گا کہ وہ انکی لاشوں کو جہاں اﷲ عَزَّوَجَل چاہے گا پھینک آئیں گے اور اُن کے تیر و کمان و تَرکش[58] کو مسلمان سا۷ت برس تک جلائیں گے، پھر اُس کے بعد بارش ہو گی کہ زمین کو ہموار کر چھوڑے گی اور زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھلوں کو اُگا اور اپنی برکتیں اُگل دے اور آسمان کو حکم ہوگا کہ اپنی برکتیں اُنڈیل دے تو یہ حالت ہو گی کہ ایک انار کو ایک جماعت کھائے گی اور اُس کے چھلکے کے سایہ میں د۱۰س آدمی بیٹھیں گے اوردودھ میں یہ برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی کا دودھ، جماعت کو کافی ہوگا اور ایک گائے کا دودھ، قبیلہ بھر کو اور ایک بکری کا، خاندان بھر کو کفایت کرے گا۔[59]

۲۵ دُھواں ظاہر ہوگا: جس سے زمین سے آسمان تک اندھیرا ہو جائے گا۔ [60]

۲۶ دابۃُ الارض کا نکلنا[61]: یہ ایک جانور ہے، اِس کے ہاتھ میں عصائے موسیٰ اور انگشتریٔ سلیمان علیہما السلام ہوگی، عصا سے ہر مسلما ن کی پیشانی پر ایک نشان نورانی بنائے گا اور انگشتری سے ہر کافر کی پیشانی پر ایک سخت سیاہ دھبّا، اُس وقت تمام مسلم و کافر علانیہ ظاہر ہوں گے۔ [62] یہ علامت کبھی نہ بدلے گی، جو کافر ہے ہر گز ایمان نہ لائے گا اور جو مسلمان ہے ہمیشہ ایمان پر قائم رہے گا[63]۔

۲۷ آفتاب کا مغرب سے طلو ع ہونا: اِس نشانی کے ظاہر ہوتے ہی توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا،اُس وقت کا اسلام معتبر نہیں ۔[64]

۲۸ وفاتِ سیدنا عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے ایک زمانہ کے بعد جب قیامِ قیامت [65] کو صرف چالیس برس رہ جائیں گے[66]، ایک خوشبو دار ٹھنڈی ہوا چلے گی، جو لوگوں کی بغلو ں کے نیچے سے گزرے گی، جس کا اثر یہ ہو گا کہ مسلمان کی روح قبض ہو جائے گی اور کافر ہی کافر رہ جائیں گے اور اُنھیں پر قیامت قائم ہوگی۔ [67]

یہ چند نشانیاں بیان کی گئیں ، اِن میں بعض واقع ہوچکیں اور کچھ باقی ہیں ، جب نشانیاں پوری ہو لیں گی اور مسلمانوں کی بغلوں کے نیچے سے وہ خوشبودار ہوا گزرلے گی جس سے تمام مسلمانوں کی وفات ہو جائے گی، اس کے بعدپھر چالیس برس کا زمانہ ایسا گزرے گا کہ اس میں کسی کے اولاد نہ ہو گی، یعنی چالیس برس سے کم عُمر کا کو ئی نہ رہے گا اور دنیا میں کافر ہی کافر ہوں گے[68]، اﷲ کہنے والا کوئی نہ ہوگا [69]، کوئی اپنی دیوار لیستا [70] ہوگا، کوئی کھانا کھاتا ہوگا، غرض لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے[71]

کہ دفعتہ[72] حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کو صُور پھو نکنے کا حکم ہوگا، شروع شروع اس کی آواز بہت باریک ہوگی اور رفتہ رفتہ بہت بلند ہو جائے گی، لوگ کان لگا کر اس کی آواز سنیں گے اور بے ہوش ہو کر گِر پڑیں گے اور مر جائیں گے، آسمان، زمین، پہاڑ، یہاں تک کہ صُور اور اسرافیل اور تمام ملائکہ فَنا ہو جائیں گے، اُس وقت سوا اُس واحدِ حقیقی کے کوئی نہ ہوگا، وہ فرمائے گا:

{ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ-}[73]

آج کس کی بادشاہت ہے۔۔۔؟! کہاں ہیں جَبّارین۔۔۔؟! کہاں ہیں متکبرین۔۔۔؟! مگر ہے کون جو جواب دے، پھر خود ہی فرمائے گا:

[لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۱۶)][74]

’’صرف  ﷲ واحد قہار کی سلطنت ہے۔‘‘

پھر جب اﷲ تَعَالٰی چاہے گا، اسرافیل کو زندہ فرمائے گا اور صور کو پیدا کرکے دوبارہ پھونکھنے کا حکم دے گا، صور پھونکھتے ہی تمام اوّلین و آخرین، ملائکہ و اِنس و جن و حیوانات موجود ہو جائیں گے۔ [75] سب سے پہلے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قبر مبارک سے یوں برآمد ہونگے کہ دَہنے ہاتھ میں صدیقِ اکبر کا ہاتھ، بائیں ہاتھ میں فاروقِ اعظم کا ہاتھ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُما [76]، پھر مکۂ معظمہ ومدینۂ طیبہ کے مقابر میں جتنے مسلمان دفن ہیں ، سب کو اپنے ہمراہ لے کر میدانِ حشر میں تشریف لے جائیں گے۔ [77]

عقیدہ ۱: قیامت بیشک قائم ہو گی، اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ [78]

عقیدہ ۲: حشر صرف رُوح کا نہیں ، بلکہ روح و جسم دونوں کا ہے، جو کہے صرف روحیں اٹھیں گی جسم زندہ نہ ہوں گے، وہ بھی کافر ہے۔ [79]

عقیدہ ۳: دنیا میں جو رُوح جس جسم کے ساتھ متعلق تھی اُس رُوح کا حشر اُسی جسم میں ہوگا، یہ نہیں کہ کوئی نیا جسم پیدا کرکے اس کے ساتھ روح متعلق کر دی جائے۔[80]

 

جاری ہے۔۔۔

 

اس مضمون میں موجود تمام نمبرز کے حوالاجات پڑھنے کے لیئ اس لنک
https://tarzeraza.blogspot.com/2023/11/hashar-ka-bayan-references.html

پر کلک کریں۔ یہاں طوالت سے بچانے کے لیئے حوالاجات الگ سے اَپلوڈ کردیئے گئے ہیں۔

 

••┈•••○○❁⭕❁○○•••┈••

✍️ کَتـــَبَہُ:

مـرکزی میـڈیا سیـل

طَـرزِ رَضَـا نِیـٹوَرک

💬 https://chat.whatsapp.com/I17kpm09EQR0v1I7L7uTRG

📝 www.tarzeraza.blogspot.com

🌎 www.facebook.com/tarzeraza

°.✩┈∘┈✧❁✧┈∘┈✩.°

+923147484963💬


No comments:

Post a Comment