*اگر
آیتِ سجدہ سننے سےسجدہ تلاوت لازم ہو،تو کیا اس کی ادائیگی کے لیے وضو کا ہونا
لازم ہے؟اگر بغیر وضو کے سجدہ تلاوت کرلیں تو کیا ادا ہوجائے گا؟*
بِسْمِ اللہِ
الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ
الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
سجدہ تلاوت
چاہے آیتِ سجدہ کی قراءت کرنے سے لازم ہوا ہو،یا آیتِ
سجدہ سننے سے لازم ہواہو،بہرصورت اُس کی ادائیگی کیلئے وضو ہونا شرط ہے، کیونکہ
سجدہ تلاوت کی ادائیگی کیلئے سوائے تکبیر تحریمہ
کے اُن تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ، جن شرائط کا نماز کے
لیے پایا جانا ضروری ہوتا ہے،لہذا جس طرح نماز کیلئے وضو ضروری ہوتا
ہے، اسی طرح سجدہ تلاوت کیلئے بھی وضو ضروری ہوگا،اور بغیر وضو کے سجدہ
تلاوت ہرگز ادا نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے’’وأما
شرائط الجواز فكل ما هو شرط جواز الصلاة من طهارة الحدث وهي الوضوء والغسل، وطهارة
النجس وهي طهارة البدن والثوب ومكان السجود والقيام والقعود فهو شرط جواز السجدة؛
لأنها جزء من أجزاء الصلاة فكانت معتبرة بسجدات الصلاة ‘‘ترجمہ:بہرحال سجدہ
تلاوت کے درست ہونے کی شرائط،تو ہر وہ چیز جو نماز کے درست ہونے کی شرط ہے، وہ
سجدہ تلاوت کے درست ہونے کی شرط ہے۔یعنی ...