*حشر کا بیان*
آخری حصہ
عقیدہ ۴: جسم کے اجزا اگرچہ مرنے کے بعد متفرق ہوگئے اور مختلف جانوروں کی غذا ہوگئے ہوں ، مگر اﷲ تَعَالی ان سب اجزا کو جمع فرماکر قیامت کے دن اٹھائے گا[81]، قیامت کے دن لوگ اپنی اپنی قبروں سے ننگے بدن، ننگے پاؤں ، نَاخَتْنہَ شُدہ اٹھیں گے [82]، کوئی پیدل، کوئی سوار[83] اور ان میں بعض تنہا سوار ہوں گے اور کسی سواری پر دو۲، کسی پر تین۳، کسی پر چار۴، کسی پر د۱۰س ہوں گے۔ [84] کافر منہ کے بل چلتا ہوا میدانِ حشر کو جائے گا [85]، کسی کو ملائکہ گھسیٹ کر لے جائیں گے، کسی کو آگ جمع کرے گی۔ [86] یہ میدانِ حشر ملکِ شام کی زمین پر قائم ہوگا۔ [87] زمین ایسی ہموار ہو گی کہ اِس کنارہ پر رائی کا دانہ گر جائے تو دوسرے کنارے سے دکھائی دے [88]، اُس دن زمین تانبے کی ہوگی[89] اور آفتاب ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا۔ راویٔ حدیث نے فرمایا:
’’معلوم نہیں میل سے مراد سُرمہ کی سلائی ہے یا میلِ مُسَافت‘‘[90]، اگر میل مسافت بھی ہو تو کیا بہت فاصلہ ہے۔۔۔؟! کہ ...
اب چار ہزار برس کی راہ کے فاصلہ پر ہے اور اِس طرف آفتاب کی پیٹھ ہے[91] ، پھر بھی جب سر کے مقابل آجاتا ہے، گھر سے باہر نکلنا دشوار ہوجاتا ہے، اُس وقت کہ ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا اور اُس کا منہ اِس طرف کو ہوگا، تپش اورگرمی کا کیا پوچھنا۔۔۔؟![92] اور اَب مِٹی کی زمین ہے، مگر گرمیوں کی دھوپ میں زمین پرپاؤں نہیں رکھا جاتا، اُس وقت جب تانبے کی ہوگی اور آفتاب کا اتنا قرب ہوگا، اُس کی تپش کون بیان کرسکے۔۔۔؟! اﷲ عَزَّوَجَل پناہ میں رکھے۔ بھیجے کھولتے ہوں گے [93] اور اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستّر گز زمین میں جذب ہوجائے گا [94]، پھر جو پسینہ زمین نہ پی سکے گی وہ اوپر چڑھے گا، کسی کے ٹخنوں تک ہو گا، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے کمر کمر، کسی کے سینہ، کسی کے گلے تک، اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثلِ لگام کے جکڑ جائے گا، جس میں وہ ڈبکیاں کھائے گا۔[95] اس گرمی کی حالت میں پیاس کی جو کیفیت ہوگی محتاجِ بیان نہیں ، زبانیں سُوکھ کر کانٹا ہوجائیں گی، بعضوں کی زبانیں منہ سے باہر نکل آئیں گی، دل اُبل کر گلے کو آجائیں گے، ہر مُبتلا بقدرِ گناہ تکلیف میں مبتلا کیا جائے گا، جس نے چاندی سونے کی زکوٰۃ نہ دی ہو گی اُس مال کو خوب گرم کرکے اُس کی کروٹ اور پیشانی اور پیٹھ پر داغ کریں گے [96]، جس نے جانوروں کی زکوٰۃ نہ دی ہوگی اس کے جانور قیامت کے دن خوب طیار ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو وہاں لٹائیں گے اور وہ جانور اپنے سینگوں سے مارتے اور پاؤں سے روندتے اُس پر گزریں گے، جب سب اسی طرح گزر جائیں گے پھر اُدھر سے واپس آکر یوہیں اُس پر گزریں گے، اسی طرح کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ختم ہو[97] وعلی ہذا القیاس۔پھر باوجود ان مصیبتوں کے کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہ ہوگا، بھائی سے بھائی بھاگے گا، ماں باپ اولاد سے پیچھا چھڑائیں گے، بی بی بچے الگ جان چُرائیں گے[98]، ہر ایک اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار، کون کس کا مدد گار ہوگا۔۔۔! حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم ہو گا، اے آدم! دوزخیوں کی جماعت الگ کر، عر ض کرینگے: کتنے میں سے کتنے؟ ارشاد ہوگا: ہر ہزار سے نو سو ننانوے، یہ وہ وقت ہو گا کہ بچے مارے غم کے بوڑھے ہوجائیں گے، حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا، لوگ ایسے دکھائی دیں گے کہ نشہ میں ہیں ، حالانکہ نشہ میں نہ ہوں گے، ولیکن اﷲ کا عذاب بہت سخت ہے [99]، غرض کس کس مصیبت کا بیان کیا جائے، ایک ہو، دو۲ ہوں ، ۱۰۰سو ہوں ، ۱۰۰۰ہزار ہوں تو کوئی بیان بھی کرے، ہزارہا مصائب اور وہ بھی ایسے شدید کہ الاماں الاماں ۔۔۔! اور یہ سب تکلیفیں دو چار گھنٹے، دو چار دن، دو چار ماہ کی نہیں ، بلکہ قیامت کا دن کہ پچاس ہزار برس کا ایک دن ہوگا[100]، قریب آدھے کے گزر چکا ہے اور ابھی تک اہلِ محشر اسی حالت میں ہیں ۔ اب آپس میں مشورہ کریں گے کہ کوئی اپنا سفارشی ڈھونڈنا چاہیے کہ ہم کو اِن مصیبتوں سے رہائی دلائے، ابھی تک تو یہی نہیں پتا چلتا ہے کہ آخر کدھر کو جانا ہے، یہ بات مشورے سے قرار پائے گی کہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام ہم سب کے باپ ہیں ، اﷲ تَعَالٰی نے اِن کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور جنت میں رہنے کو جگہ دی اور مرتبۂ نبوت سے سرفراز فرمایا، اُنکی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے، وہ ہم کو اِس مصیبت سے نجات دلائیں گے۔
غرض اُفتاں و خیزاں [101] کس کس مشکل سے اُن کے پاس حاضر ہو ں گے اور عرض کریں گے: اے آدم! آپ ابو البشر ہیں ، اﷲ عَزَّوَجَل نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور اپنی چُنی ہوئی روح آپ میں ڈالی اور ملائکہ سے آپ کو سجدہ کرایا اور جنت میں آپ کو رکھا، تمام چیزوں کے نام آپ کو سکھائے، آپ کو صفی کیا، آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں ۔۔۔؟! آپ ہماریشفاعت کیجیے کہ اﷲ تَعَالٰی ہمیں اس سے نجات دے۔ [102] فرمائیں گے: میرا یہ مر تبہ نہیں ، مجھے آج اپنی جان کی فکر ہے[103]، آج رب عَزَّوَجَل نے ایسا غضب فرمایا ہے کہ نہ پہلے کبھی ایسا غضب فرمایا، نہ آئندہ فرمائے، تم کسی اور کے پاس جاؤ! [104] لوگ عرض کریں گے: آخر کس کے پاس ہم جائیں ۔۔۔؟ فرمائیں گے[105]: نُوح کے پاس جاؤ، کہ وہ پہلے رسول ہیں کہ زمین پر ہدایت کے لیے بھیجے گئے[106]، لوگ اُسی حالت میں حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلَام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اُن کے فضائل بیان کرکے عرض کریں گے کہ[107]: آپ اپنے ربّ کے حضورہماری شفاعت کیجیے کہ وہ ہمارا فیصلہ کر دے، یہاں سے بھی وہی جواب ملے گا کہ میں اس لائق نہیں ، مجھے اپنی پڑی ہے[108]، تم کسی اور کے پاس جاؤ! [109] عرض کریں گے، کہ آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں ۔۔۔؟ فرمائیں گے[110]: تم ابراہیم خلیل اﷲ کے پاس جاؤ[111]، کہ اُن کو اﷲ تَعَالٰی نے مرتبۂ خُلّت سے ممتاز فرمایا ہے[112]، لوگ یہاں حاضر ہوں گے، وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اِس کے قابل نہیں ، مجھے اپنا اندیشہ ہے۔
مختصر یہ کہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ کی خدمت میں بھیجیں گے، وہاں بھی وہی جواب ملے گا،پھر موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ کے پاس بھیجیں گے، وہ بھی یہی فرمائیں گے: کہ میرے کرنے کا یہ کام نہیں [113]، آج میرے رب نے وہ غضب فرمایا ہے، کہ ایسا نہ کبھی فرمایا، نہ فرمائے، مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ[114]، لوگ عرض کریں گے: آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں ؟ فرمائیں گے: تم اُن کے حضور حاضر ہو، جن کے ہاتھ پر فتح رکھی گئی، جو آج بے خوف ہیں [115]، اور وہ تمام اولادِ آدم کے سردارہیں ، تم محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو، وہ خاتم النبیین ہیں ، وہ آج تمہاری شفاعت فرمائیں گے، اُنھیں کے حضور حاضر ہو، وہ یہاں تشریف فرما ہیں ۔ [116]
اب لوگ پھِرتے پھِراتے، ٹھوکریں کھاتے، روتے چلّاتے، دُہائی دیتے حاضرِ بارگاہِ بے کس پناہ ہو کر عرض کریں گے[117]: اے محمد! [118] اے اﷲ کے نبی! حضور کے ہاتھ پر اﷲ عَزَّوَجَل نے فتحِ باب رکھا ہے، آج حضور مطمئن ہیں [119]، اِن کے علاوہ اور بہت سے فضائل بیان کرکے عرض کریں گے: حضور ملاحظہ تو فرمائیں ہم کس مصیبت میں ہیں ! اور کس حال کو پہنچے! حضور بارگاہِ خداوندی میں ہماری شفاعت فرمائیں اورہم کو اس آفت سے نجات دلوائیں ۔ [120] جواب میں ارشاد فرمائیں گے: أَنَا لَھَا [121] میں اس کام کے لیے ہوں ، أنَا صَاحِبُکُمْ [122] میں ہی وہ ہوں جسے تم تمام جگہ ڈھونڈ آئے، یہ فرماکر بارگاہِ عزّت میں حاضر ہوں گے اور سجدہ کریں گے، ارشاد ہوگا:
یَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأسَکَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَہ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ [123]۔
’’اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو، تمھاری بات سنی جائے گی اور مانگو جو کچھ مانگو گے ملے گا اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت مقبول ہے۔‘‘ دوسری روایت میں ہے:
وَقُلْ تُطَعْ [124]۔
’’فرماؤ! تمہاری اِطاعت کی جائے۔‘‘
پھر تو شفاعت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ سے کم سے کم بھی ایمان ہوگا، اس کے لیے بھی شفاعت فرماکر اُسے جہنم سے نکالیں گے، یہاں تک کہ جو سچے دل سے مسلمان ہوا اگرچہ اس کے پاس کوئی نیک عمل نہیں ہے، اسے بھی دوزخ سے نکالیں گے۔ [125] اَب تمام انبیا اپنی اُمّت کی شفاعت فرمائیں گے[126]، اولیائے کرام[127]،
شہدا[128]، علما[129]، حُفّاظ [130]، حُجّاج [131]، بلکہ ہر وہ شخص جس کو کوئی منصبِ دینی عنایت ہوا، اپنے اپنے متعلقین کی شفاعت کرے گا۔[132] نابالغ بچے جو مرگئے ہیں ، اپنے ماں باپ کی شفاعت کریں گے[133]، یہاں تک کہ علما کے پاس کچھ لوگ آکرعرض کریں گے: ہم نے آپ کے وضو کے لیے فلاں وقت میں پانی بھر دیا تھا[134]، کوئی کہے گا :کہ میں نے آپ کو استنجے کے لیے ڈھیلا دیا تھا[135]، علما اُن تک کی شفاعت کریں گے۔
عقیدہ ۵: حساب حق ہے، اعمال کا حساب ہونے والا ہے۔[136]
عقیدہ ۶: حساب کا منکر کافر ہے[137]، کسی سے تو اس طرح حساب لیا جائے گا کہ خُفیۃً [138] اُس سے پوچھا جائے
گا: تو نے یہ کیا اور یہ کیا؟ عرض کرے گا: ہاں اے رب! یہاں تک کہ تمام گناہوں کا اقرار لے لے گا، اب یہ اپنے دل میں سمجھے گا کہ اب گئے، فرمائے گا: کہ ہم نے دنیا میں تیرے عیب چھپائے اور اب بخشتے ہیں ۔ [139] اور کسی سے سختی کے ساتھ ایک ایک بات کی باز پرس ہوگی، جس سے یوں سوال ہوا، وہ ہلاک ہوا۔ [140] کسی سے فرمائے گا: اے فلاں ! کیا میں نے تجھے عزت نہ دی۔۔۔؟! تجھے سردار نہ بنایا۔۔۔؟! اور تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ وغیرہ کو مُسخّر نہ کیا۔۔۔؟! ان کے علاوہ اور نعمتیں یاد دلائے گا، عر ض کرے گا: ہاں ! تُو نے سب کچھ دیا تھا، پھر فرمائے گا: تو کیا تیراخیال تھا کہ مجھ سے ملنا ہے؟ عرض کرے گا کہ نہیں ، فرمائے گا: تو جیسے تُو نے ہمیں یاد نہ کیا، ہم بھی تجھے عذاب میں چھوڑتے ہیں ۔
بعض کافر ایسے بھی ہوں گے کہ جب نعمتیں یاد دلا کر فرمائے گا کہ تُو نے کیا کیا؟ عرض کرے گا: تجھ پر اور تیری کتاب اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا، نماز پڑھی، روزے رکھے، صدقہ دیااو ر ان کے علاوہ جہاں تک ہوسکے گا، نیک کاموں کا ذکر کر جائے گا۔ ارشاد ہو گا: تو اچھا تُو ٹھہر جا! تجھ پر گواہ پیش کیے جائیں گے، یہ اپنے جی میں سوچے گا: مجھ پر کون گواہی دیگا۔۔۔؟! اس وقت اس کے مونھ پرمُہرکر دی جائے گی اور اَعضا کو حکم ہوگا: بول چلو، اُس وقت اُس کی ران اور ہاتھ پاؤں ، گوشت پوست، ہڈیاں سب گواہی دیں گے کہ یہ تو ایسا تھا ایسا تھا، وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔[141]
نبی صَلَّی اﷲُ تَعَالی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: میری اُمّت سے ستّر ہزار بے حساب جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے طفیل میں ہر ایک کے ساتھ ستّر ہزار اور رب عَزَّوَجَل ان کے ساتھ تین جماعتیں اور دے گا، معلوم نہیں ہر جماعت میں کتنے ہوں گے، اس کا شمار وہی جانے۔[142] تہجد پڑھنے والے بِلا حساب جنت میں جائیں گے۔[143]
اس امت میں وہ شخص بھی ہوگا جس کے ننانوے دفتر گناہوں کے ہوں گے اور ہر دفتر اتنا ہوگا جہاں تک نگاہ پہنچے، وہ سب کھولے جائیں گے، رب عَزَّوَجَل فرمائے گا: ان میں سے کسی امر کا تجھے انکار تو نہیں ہے؟ میرے فرشتوں کراماً کاتبین نے تجھ پر ظلم تو نہیں کیا؟ عرض کرے گا: نہیں اے رب! پھر فرمائے گا: تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ عرض کرے گا: نہیں اے رب! فرمائے گا: ہاں تیری ایک نیکی ہمارے حضور میں ہے اور تجھ پر آج ظلم نہ ہوگا، اُس وقت ایک پرچہ جس میں ’’أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِِلَّا اللہُ وَأَشْھَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ ہو گا نکالا جائے گا اور حکم ہوگا جا تُلوا، عرض کرے گا: اے رب! یہ پرچہ ان دفتروں کے سامنے کیا ہے؟ فرمائے گا: تجھ پر ظلم نہ ہوگا، پھر ایک پلّے پر یہ سب دفتر رکھے جائیں گے اور ایک میں وہ، وہ پرچہ ان دفتروں سے بھاری ہو جائے گا۔ [144] بالجملہ اس کی رحمت کی کوئی انتہا نہیں ، جس پر رحم فرمائے، تھوڑی چیز بھی بہت کثیر ہے۔
عقیدہ ۷: قیامت کے دن ہر شخص کو اُس کانامۂ اعمال دیا جائے گا[145] ، نیکوں کے دہنے ہاتھ میں اور بدوں کے بائیں ہاتھ میں [146]، کافر کا سینہ توڑ کر اُس کا بایاں ہاتھ اس سے پسِ پشت نکال کر پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ [147]
عقیدہ ۸: حوضِ کوثر کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مرحمت ہوا، حق ہے۔[148] اِس حوض کی مسافت ایک مہینہ کی راہ ہے[149] ، اس کے کناروں پر موتی کے قُبّے ہیں [150] ، چاروں گوشے برابر یعنی زاویے قائمہ ہیں [151] ، اس کی مٹی نہایت خوشبودار مشک کی ہے[152] ، اس کا پانی دُودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا [153] اور مشک سے زیادہ پاکیزہ [154] اور اس پر برتن ستاروں سے بھی گنتی میں زیادہ[155] جو اس کا پانی پیے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا[156] ، اس میں جنت سے دو پر نالے ہر وقت گرتے ہیں ، ایک سونے کا، دوسرا چاندی کا۔ [157]
عقیدہ ۹: میزان حق ہے۔ اس پر لوگوں کے اعمال نیک و بد تولے جائیں گے[158]، نیکی کا پلّہ بھاری ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اوپر اُٹھے، دنیا کا سا معاملہ نہیں کہ جو بھاری ہوتا ہے نیچے کو جھکتا ہے۔ [159]
عقیدہ ۱۰: حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اﷲ عَزَّوَجَل مقامِ محمود عطا فرمائے گا، کہ تمام اوّلین وآخرین حضور صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی حمد و ستائش کریں گے۔ [160]
عقیدہ ۱۱: حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ایک جھنڈا مرحمت ہو گا جس کو لواء الحمد کہتے ہیں ، تمام مومنین حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے آخر تک سب اُسی کے نیچے ہوں گے۔ [161]
عقیدہ ۱۲: صراط حق ہے ۔یہ ایک پُل ہے کہ پشتِ جہنم پر نصب کیا جائے گا، بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا[162]، جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے، سب سے پہلے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ گزر فرمائیں گے، پھر اور انبیا و مرسلین، پھر یہ اُمّت پھر اور اُمتیں گزریں گی[163] اور حسبِ اختلافِ اعمال پُلِ صراط پر لوگ مختلف طرح سے گزریں گے، بعض تو ایسے تیزی کے ساتھ گزریں گے جیسے بجلی کا کوندا کہ ابھی چمکا اور ابھی غائب ہوگیا اور بعض تیز ہواکی طرح، کوئی ایسے جیسے پرند اڑتا ہےاور بعض جیسے گھوڑا دوڑتا ہے اور بعض جیسے آدمی دوڑتا ہے، یہاں تک کہ بعض شخص سُرین پر گھسٹتے ہوئے اور کوئی چیونٹی کی چال جائے گا[164] اور پُل صراط کے دونوں جانب بڑے بڑے آنکڑے اﷲ عَزَّوَجَل ہی جانے کہ وہ کتنے بڑے ہونگے لٹکتے ہوں گے، جس شخص کے بارے میں حکم ہوگا اُسے پکڑلیں گے، مگر بعض تو زخمی ہو کرنجات پا جائیں گے اور بعض کو جہنم میں گرا دیں گے[165] اور یہ ہلاک ہوا۔
یہ تمام اہلِ محشر تو پُل پر سے گزرنے میں مشغول، مگر وہ بے گناہ، گناہگاروں کا شفیع پُل کے کنارے کھڑا ہوا بکمالِ گریہ وزاری اپنی اُمّتِ عاصی کی نجات کی فکر میں اپنے رب سے دُعا کر رہا ہے: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ [166]، اِلٰہی! ان گناہگاروں کو بچالے بچالے۔ اور ایک اسی جگہ کیا! حضور صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اُس دن تمام مواطن میں دورہ فرماتے رہیں گے، کبھی میزان پر تشریف لے جائیں گے، وہاں جس کے حسنات میں کمی دیکھیں گے، اس کی شفاعت فرما کر نجات دلوائیں گے اور فوراً ہی دیکھو تو حوضِ کوثر پر جلوہ فرما ہیں ، پیاسوں کو سیراب فرمارہے ہیں اور وہاں سے پُل پر رونق افروز ہوئے اور گِرتوں کو بچایا۔ [167]
غرض ہر جگہ اُنھیں کی دُوہائی، ہر شخص اُنھیں کو پکارتا، اُنھیں سے فریا دکرتا ہے اور اُن کے سوا کس کوپکارے۔۔۔؟! کہ ہر ایک تو اپنی فکر میں ہے دوسروں کو کیا پوچھے، صرف ایک یہی ہیں جنہیں اپنی کچھ فکر نہیں اور تمام عالم کا بار اِن کے ذمّے۔
’’صَلّی اللہ تعالی علیہ وَعلٰی آلِہٖ وأَصْحَابِہٖ وَبارَکَ وَسَلَّمَ اَللّٰھُمَّ نَجِّنَا مِنْ أَھْوَالِ الْمَحْشَرِ بِجَاہِ ھٰذَا النَّبِيِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَالتَّسْلِیْمِ، اٰمِیْنَ ! [168]
یہ قیامت کا دن کہ حقیقۃً قیامت کا دن ہے، جو پچاس ہزار برس کا دن ہوگا[169]، جس کے مصائب بے شمار ہوں گے، مولیٰ عَزَّوَجَل کے جو خاص بندے ہیں ان کے لیے اتنا ہلکا کر دیا جائے گا، کہ معلوم ہوگا اس میں اتنا وقت صَرف ہوا جتنا ایک وقت کی نمازِ فرض میں صَرف ہوتا ہے [170]، بلکہ اس سے بھی کم [171]، یہاں تک کہ بعضوں کے لیے تو پلک جھپکنے میں سارا دن طے ہو جائے گا۔
{ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُؕ- }[172]
’’قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے پلک جھپکنا، بلکہ اس سے بھی کم۔‘‘
سب سے اعظم و اعلیٰ جو مسلمانوں کو اس روز نعمت ملے گی وہ اﷲ عَزَّوَجَل کا دیدار ہے، کہ اس نعمت کےبرابر کوئی نعمت نہیں [173] ، جسے ایک بار دیدار میسّر ہوگا ہمیشہ ہمیشہ اس کے ذوق میں مستغرق[174] رہے گا کبھی نہ بھولے گا، اور سب سے پہلے دیدارِ الٰہی حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ہوگا۔ [175]
یہاں تک تو حشرکے اہوال و احوال مختصراً بیان کیے گئے، ان تمام مرحلوں کے بعد اب اسے ہمیشگی کے گھر میں جانا ہے، کسی کو آرام کا گھر ملے گا، جس کی آسائش کی کوئی انتہا نہیں ، اس کو جنت کہتے ہیں ۔یا تکلیف کے گھر میں جانا پڑے جس کی تکلیف کی کوئی حد نہیں ، اسے جہنم کہتے ہیں ۔
عقیدہ ۱۳: جنت ودوزخ حق ہیں [176]، ان کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ [177]
عقیدہ ۱۴: جنت ودوزخ کو بنے ہوئے ہزارہا سال ہوئے اور وہ اب موجود ہیں ، یہ نہیں کہ اس وقت تک مخلوق نہ ہوئیں ، قیامت کے دن بنائی جائیں گی۔[178]
عقیدہ ۱۵: قیامت و بعث و حشر و حساب و ثواب و عذاب و جنت و دوزخ سب کے وہی معنی ہیں جو مسلمانوں میں مشہور ہیں ، جو شخص ان چیزوں کو تو حق کہے مگر ان کے نئے معنی گھڑے مثلاً ثواب کے معنی اپنے حسنات کو دیکھ کر خوش ہونا اور عذاب اپنے بُرے اعمال کو دیکھ کر غمگین ہونا، یا حشر فقط روحوں کا ہونا، وہ حقیقۃً ان چیزوں کا منکر ہے اور ایسا شخص کافر ہے۔[179] اب جنت و دوزخ کی مختصر کیفیت بیان کی جاتی ہے۔ (بہار شریعت ،حصہ اول،جلد۱،صفحہ۱۱۶ تا ۱۵۱)
اس مضمون میں موجود تمام نمبرز کے حوالاجات پڑھنے کے لیئ اس لنک
https://tarzeraza.blogspot.com/2023/11/hashar-ka-bayan-references.html
پر کلک کریں۔ یہاں طوالت سے بچانے کے لیئے حوالاجات الگ سے اَپلوڈ کردیئے گئے ہیں۔
••┈•••○○❁⭕❁○○•••┈••
✍️ کَتـــَبَہُ:
مـرکزی میـڈیا سیـل
طَـرزِ رَضَـا نِیـٹوَرک
💬 https://chat.whatsapp.com/I17kpm09EQR0v1I7L7uTRG
📝 www.tarzeraza.blogspot.com
🌎 www.facebook.com/tarzeraza
°.✩┈∘┈✧❁✧┈∘┈✩.°
+923147484963💬
No comments:
Post a Comment